صحت مند بچے کی پیدائش کے لئے مردوں کو کتنی عمر تک بچہ پیدا کرلینا چاہیے؟ سائنسدانوں نے وارننگ دے دی

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کیریئر بنانے کے چکر میں شادی اور بچوں کی پیدائش میں تاخیر کرنا بھی گویا آج کل معمول بن چکا ہے۔اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں مردوں کو بچے پیدا کرنے کے لیے عمر کی حتمی بالائی حد بتاتے ہوئے سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سٹینفرڈ یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے کئی ممالک میں پیدا ہونے والے 4کروڑ بچوں کی پیدائشی صحت اور ان کے والدین کی عمر کے تجزئیے کے بعد بتایا ہے کہ مردوں کو 35سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل ہی بچے پیدا کر لینے چاہیے۔ اس کے بعد ان کے ہاں پیداہونے والے بچوں میں پیدائشی نقائص اور قبل از وقت پیدائش کے امکانات بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والے ان تحقیقاتی نتائج میں بتایا گیا ہے کہ جب مرد کی عمر 30سال ہوتی ہے تو ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان میں شدت مرد کی عمر 35سال کو پہنچنے پر آتی ہے اور اگر باپ کی عمر 45سال ہو تو اس کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو پیدائشی جسمانی و ذہنی نقائص لاحق ہونے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر میکائیل ایزنبرگ کا کہنا تھا کہ ”ہمارا ارادہ ماں کی عمر کے بچوں پر اثرات معلوم کرنے کا تھا لیکن جب ہم نے ڈیٹا کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ بچے پر ماں اور باپ دونوں کی عمر یکساں اثرانداز ہوتی ہے۔ جب ہم نے مردوں کے حوالے سے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی زندگی کے ہر بڑھتے ہوئے سال کے ساتھ ان کے سپرمز کے ڈی این اے میں دو نئی تبدیلیاں آتی ہیں جو 35سال یا اس سے زائد عمر میں ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔“

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں