کونسا کام صرف 10 فیصد بڑھ جائے تو بزرگوں کی زندگیاں خطرے سے باہر؟ اہم تحقیق آگئی

امریکا میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر بزرگوں کو زکام کی ویکسین اضافی لگائی جائے تو کورونا سے اُن کی موت کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔
امریکا کے وبائی روک تھام کے مرکز (سینٹر فار ڈیزیز اینڈ کنٹرول) کی جانب سے جاری ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر زکام کی ویکسین کے استعمال میں صرف 10 فیصد اضافہ کردیا جائے تو کورونا سے متاثر ہونے والے 65 سال یا اُس سے زیادہ کی عمر کے بزرگوں کی زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے۔
جمعے کے روز امریکی ادارے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’وبا کے دوران زکام کی ویکسین لگوانا بہت ضروری ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بڑی عمر کے افراد کورونا سے کم متاثر ہوتے ہیں‘۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 65 سال یا اُس سے بڑی عمر کے لوگوں کو اگر ویکسین لگائی جائے تو کورونا اُن پر شدت سے حملہ آور نہیں ہوتا، وہ معمولی بیمار ہوتے ہیں اور پھر صحت مند بھی ہوجاتے ہیں۔
ماہرین نے اس حوالے سے امریکا کی مختلف ریاستوں میں دو سو سے زائد کاؤنٹیز کے اعداد و شمار جمع کیے اور اُس کی روشنی میں رپورٹ مرتب کی۔
تحقیقی رپورٹ میں واضح لکھا گیا ہے کہ جن علاقوں میں 65 سال یا اُس سے زائد عمر کے لوگوں کو زکام کی اضافی ویکسین لگائی گئی وہاں پر کورونا سے بزرگ شہریوں کے مرنے کی شرح دیگر کے مقابلے میں 28 فیصد کم رہی۔
تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا سے بڑی عمر کے لوگوں میں اموات کی کمی کی دیگر وجوہات بھی ہیں، جن میں سماجی ، معاشی اور صحت کے عوامل شامل ہیں۔
ماہرین نے محکمہ صحت کو اپنی تحقیقی رپورٹ ارسال کردی جس میں سفارش کی گئی ہے کہ حکومت انفلوئنزا کی ویکسین فراہم کرے اور اس رپورٹ کی مزید تحقیق کرے تاکہ بزرگ شہریوں کی جان کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...