‘صرف 8 منٹ کے دوران کیسے اور کتنے دہشت گردوں کو مار گرایا؟ ڈی جی رینجرز نے بتا دیا

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری نے کہا ہے کہ کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملہ کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو 8 منٹ میں ہلاک کرکے ان کے اہداف کو ناکام بنا دیا گیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد جب حملہ کرنے آئے تو انہوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کچھ راہگیر زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی گارڈز نے دو دہشت گردوں کو پہلے ہی مار گرایا تھا جبکہ دو آگے آگئے تھے اور اس دوران ایک پولیس اہلکار بھی شہید ہوگیا تھا۔

ڈی جی رینجرز نے کہا کہ ’واقعے کی اطلاع ملتے ہی کچھ دیر میں رینجرز اور پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی اور انہوں نے تمام دہشت گردوں کو مار گرایا‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی واقعے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں جس کی وجہ سے اس حملے کو ناکام بنایا گیا۔

ان کاکہنا تھا کہ اس واقعے کے فوراً بعد کراچی پولیس اور سندھ رینجرز کی ریپڈ ایکشن فورس موقع پر پہنچ گئی، ہم نے 10 منٹ کے اندر کارروائی مکمل کی اور 25 منٹ کے اندر پوری عمارت کو کلیئر کردیا۔

ڈی جی رینجرز نے کہا کہ اس پورے واقعے میں جو چیزیں برآمد ہوئی ہیں ان میں سے ایک وہ گاڑی ہے جس میں وہ آئے اس کے علاوہ دیگر سامان کی فہرست بھی موجود ہے جو وہ ساتھ لائے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ چار دہشت گرد اس عزم کے ساتھ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر آئے تھے کہ وہ اس کی عمارت کے اندر جائیں گے اور ناصرف لوگوں کو ماریں گے بلکہ وہ یرغمال بنانے کا بھی ارادہ رکھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ان کے پاس سے جو چیزیں ملی ہیں ان میں ہر دہشت گرد مکمل طور پر اسلحے سے لیس تھا، ان کے پاس اے کے 47 رائفلز تھیں، ایک کے پاس گرینیڈ لانچر تھا، بہت سے گرینیڈ تھے، دستی بم بھی تھے اور لانچر کے ساتھ چلائے جانے والے بم بھی تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دہشت گردوں کے پاس کھانے پینے کا سامان تھا اور دیگر بہت سا اسلحہ تھا لیکن پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مرکزی عمارت کے داخلی دروزے پر ہی ان کا بھرپور استقبال کیا گیا۔

میجر جنرل عمر احمد بخاری نے کہا کہ اس کے فوراً بعد حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی کے مجید گروپ نے قبول کر لی اور کچھ نام بھی شائع کیے ہیں جن پر فیصلہ ہم تحقیقات کے بعد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اور انٹیلی جنس کی وجہ سے ہی ہم تیار تھے جس کی وجہ سے ہم کامیاب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے کہ یہ کراس اسپانسرڈ حملہ ہوسکتا ہے اور ہم خطروں کے حساب سے اپنے رد عمل کو اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد دنیا کو پیغام دینا چاہتے تھے کہ پاکستان غیر محفوظ شہر ہے جبکہ انہوں نے یہ کام کرکے اپنا ہی منہ کالا کیا ہے اور سب کو پتا لگا گیا ہے کہ جو یہ کام کرتا ہے اس کا کیا حال ہوتا ہے۔

انہوں نے اس واقعے کے ممکنہ مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد پاکستان کی معیشت میں علامت کی حثیت رکھنے والے ادارے کو نشانہ بنانا تھا، ہم سب جانتے ہیں کہ یہ معاشی سرگرمیوں کی عملبردار اور انتہائی اہم عمارت ہے جس کو وہ نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

ڈی جی رینجرز نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ اس حملے کا مقصد پاکستان کی خوشحالی کو ٹھیس پہنچانا، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کرنا، دہشت گردی سے شہر کی رونقوں کو ماند کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ واقعے اور عمارت کو کلیئر کرنے کے تقریبا آدھے گھنٹے بعد اسٹاک معمول کے مطابق اپنے کام میں مصروف ہو گئی تھی کیونکہ وہ عمارت میں ہی تھے بلکہ آج انڈیکس میں 2800 پوائنٹس کی سرگرمی ہوئی ہے جو خوش آئند بات ہے اور دہشت گرد جو اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے، نہیں کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام سیکیورٹی ایجنسیز، رینجرز، پولیس اور قومی سلامتی کے بقیہ تمام ادارے سرگرم عمل ہیں اور ہم اس کی تفصیلی تحقیقات کریں گے اور پتا چلائیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں اور نتائج سے آپ کو آگاہ کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی رینجرز نے کہا کہ جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو اس کے پیچھے بہت سے محرکات ہوتے ہیں اور شہر قائد میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے کوئی دہشت گردی کا واقعہ نہیں ہوا تھا اور خصوصاً را سمیت دیگر غیرملکی ایجنسیز اس پرامن صورتحال پر بہت بے چین تھیں۔

ڈی جی رینجرز نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ کسی انٹیلی جنس ایجنسی کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا اور اس میں سرفہرست را کی بے چینی ہم سب کے سامنے ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں میجر جنرل عمر احمد بخاری نے کہا کہ پچھلے کئی سالوں میں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی اور مجرموں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی ہے اس سے تمام دہشت گرد تنظیمیں اور جرائم پیشہ عناصر بہت محدود ہو چکے ہیں، ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ ملک دشمن ایجنسیز کی کوشش ہے کہ جو بھی دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار ہیں، ان کا مل کر ایک نیٹ ورک قائم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز کو انٹیلی جنس کی ناکامی کہنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن میں اسے انٹیلی جنس کی ناکامی بالکل نہیں کہوں گا، اس حادثے میں یہ لوگ 8 منٹ کے اندر اندر فارغ ہو گئے اور ہمیں انٹیلی اور سیکیورٹی فورسز کے ردعمل پر فخر کرتے ہوئے ان کی کارروائی کا اعتراف کرنا چاہیے کیونکہ وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے اور میں اسے ناکامی کے بجائے کامیابی سمجھتا ہوں۔

اس موقع پر کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں کوئی حملہ نہیں ہوا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے اس دوران حملے کی کوشش اور تیاری نہیں کی، ہم نے اس دوران حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے کئی گروپوں کو پکڑا اور ان کو حملوں سے روکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی واقعہ رونما ہونے سے قبل ہی ہم مجرموں کو پکڑ لیتے ہیں تو وہ اتنی بڑی خبر نہیں بنتی لیکن کوئی واقعہ ہو جاتا ہے تو قدرتی طور پر بڑی خبر بنتی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ کامیابی ہی تھی کہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں متعدد ملزمان پکڑے گئے جو حملے نہیں کر سکے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی جی رینجرز نے کہا کہ بلوچستان میں آپریشن بھرپور طریقے سے جاری ہے جس میں کوشش کی جا رہی ہے کہ گمراہ لوگوں کو راہ راست پر لایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ دہشت گرد چاہتے تو یہی تھے کہ وہ ہمیں یہ باور کرائیں کہ وہ اتنی اہم عمارتوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان ایک غیرمحفوظ ملک ہے لیکن اس کارروائی میں انہوں نے اپنا منہ کالا کیا ہے اور اس کا واضح ثبوت اسٹاک ایکسچینج کی تیزی ہے کہ جسے وہ نیچے لانا چاہتے تھے تاہم وہ اس کے برعکس ہوا ہے۔

کراچی پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ہمارا ایک شاہد نامی پولیس اہلکار اس کارروائی میں شہید ہوا جس کا تعلق کوٹلی سے تھا اور ہم آج مکمل اعزاز کے ساتھ اس کی نماز جنازہ، نماز عصر کے بعد ادا کریں گے اور شہید کے ورثا کو قانون کے مطابق حقوق دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن کی حالت بہتر ہے، میری ان سے ملاقات بھی ہوئی ہے اور زخمی پولیس اہلکاروں کے حقوق بھی انہیں دیے جائیں گے اور ان کا بہتر سے بہتر علاج کیا جائے گا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...