کورونا ویکسین کی چینی فوج کے لیے استعمال کرنے کی منظوری

دنیا بھر میں متعدد کمپنیوں کی جانب سے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسینز کی تیاری پر کام ہورہا ہے، مگر بہت کم انسانی آزمائش کے مرحلے میں داخل ہوسکی ہیں۔
ان ابتدائی ویکسینز میں سے ایک چین میں تیار ہورہی ہے اور مئی میں انسانی آزمائش کے ابتدائی نتائج جاری کیے گئے تھے جو حوصلہ افزا قرار دیئے گئے تھے۔
چینی کمپنی کین سینو بائیو لوجک اس ویکسین کو چینی فوج کے تحقیقی یونٹ اکیڈمی آف ملٹری سائنس (اے ایم ایس) کے ساتھ مل کر تیار کررہی ہے۔
کلینکل ٹرائلز میں اسے محفوظ اور کسی حد تک موثر ثابت ہونے پر اب چین کی فوج نے اپنے اہلکاروں کے لیے اس ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔
ایڈ 5 این کوو نامی ویکسین چین کی 8 ویکسینز میں سے ایک ہے جو انسانی آزمائش کے مرحلے سے گزر رہی ہیں، جبکہ اسے کینیڈا میں بھی انسانی آزمائش کی اجازت مل چکی ہے۔
کین سینو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 25 جون کو چین کے مرکزی فوجی کمیشن نے فوج کے لیے اس ویکسین کے استعمال کی منظوری ایک سال کے لیے دی۔
کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ‘یہ ویکسین فی الحال صرف فوجی استعمال کے لیے محدود ہوگی اور لاجسٹک سپورٹ ڈپارٹمنٹ کی منظوری تک بڑے پیمانے پر اس کا استعمال نہیں کیا جائے گا’۔
تاہم کمپنی نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ چینی فوجیوں کے لیے اس ویکسین کا استعمال لازمی ہوگا یا ان کی مرضی پر ہوگا۔
فوج کے لیے ویکسین کے استعمال کی منظوری سے قبل رواں ماہ کے شروع میں چینی حکام نے ریاستی اداروں کے بیرون ملک سفر کرنے والے ملازمین کے لیے 2 دیگر ویکسینز کے لیے استعمال کی بھی منظوری دی تھی۔
کین سینو کی ویکسین کے انسانی آزمائش کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں دریافت کیا گیا تھا کہ یہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماریوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، تاہم کمپنی کا کہنا تھا کہ کمرشل کامیابی کی ابھی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
چینی فوج کے تحقیقی یونٹ اکیڈمی آف ملٹری سائنس نے رواں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے دوسری تجرباتی ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کی بھی منظوری دی تھی۔
رواں ماہ ہی چین کی ایک اور کمپنی سینویک بائیو ٹیک لمیٹڈ نے اعلان کیا تھاکہ انسانی ٹرائل کے دوران کورونا وائرس کے خلاف اس کی ویکسین محفوظ ثابت ہوئی اور مدافعتی ردعمل کو بہتر کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
بیجنگ سے تعلق رکھنے والی کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انسانی ٹرائل اس ویکسین جسے کورونا ویک کا نام دیا گیا ہے، سے سنگین مضر اثرات مرتب نہیں اور جن افراد کو اس کا استعمال کرایا گیا، ان میں 2 ہفتے بعد وائرس کے خلاف مضبوط مدافعتی ردعمل پیدا ہوا جن میں ایسی اینٹی باڈیز بھی شامل تھیں جو وائرس کو ناکارہ بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
کمپنی کی جانب سے اس ویکسین کے انسانوں پر پہلے اور دوسرے مراحل کے ابتدائی نتائج جاری کیے گئے جن میں 18 سے 59 سال کی عمر کے 743 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
پہلے مرحلے میں 143 جبکہ دوسرے مرحلے میں 600 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
ان افراد کو 2 شیڈولز میں ویکسین کے ڈوز یا ایک پلیسیبو (ایک بے ضرر مادہ جو دوائی کے طور پر دیا جاتا ہے) کا استعمال کرایا گیا۔
جن افراد کو ویکسین کا استعمال کرایا گیا ان میں 14 دن بعد وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح 90 فیصد سے زیادہ تھی جبکہ کسی قسم کے شدید مضر اثرات بھی دیکھنے میں نہیں آئے۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق ایک اور گروپ پر ویکسین کے نتائج بھی جلد جاری کیے جائیں گے جن میں ٹرائل کا دورانیہ 28 دن کا تھا اور ان نتائج کو تدریسی جرائد میں شائع کیا جائے گا۔
اس کے بعد تیسرے اور آخری مرحلے کے آغاز کے لیے درخواست کی گئی۔
کمپنی نے رواں ماہ برازیل کے Instituto Butantan کے ساتھ شراکت داری کا بھی اعلان کیا تھا تاکہ برازیل میں تیسرے مرحلے کے ٹرائل پر کام کیا جاسکے، جہاں کورونا وائرس کے کیسز بہت تیزی سے سامنے آرہے ہیں۔
نتائج کے حوالے سے چینی کمپنی کے صدر وائیڈونگ ین نے کہا ‘پہلے اور دوسرے مرحلے کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ کورونا ویک محفوظ اور وائرس کے خلاف مدافعتی ردعمل پیدا کرسکتی ہے’۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلے اور دوسرے مرحلے کو ان حوصلہ افزا نتائج کے ساتھ مکمل کرنا ایک اور اہم سنگ میل ہے جو ہم نے کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں حاصل کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ‘ہم ویکسین کی تیاری کے لیے پروڈکشن یونٹ کی تعمیر پر بھی سرمایہ کاری شروع کررہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈوز تیار کیے جاسکیں اور لوگوں کو کووڈ 19 سے تحفظ مل سکے، ہماری دیگر ویکسینز کی طرح، ہم بھی عالمی سطح پر کورونا ویک کی تیاری کے لیے پرعزم ہیں، یہ ہمارا مشن ہے کہ اس انسانی بیماری کے خاتمے کے لیے ویکسینز فراہم کریں’۔
سینویک نے اس ویکسین کی تیاری جنوری 2020 میں چین کے ممتاز تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر شروع کی تھی۔
کمپنی کو 13 اپریل کو چین کے ادارے این ایم پی اے کی جانب سے پہلے اور دوسرے مرحلے کے ٹرائل شروع کرنے کی اجازت ملی۔
خیال رہے کہ اپریل میں چین کے طبی حکام نے امید ظاہر کی تھی کہ کووڈ 19 سے تحفظ دینے والی ویکسین ستمبر تک ایمرجنسی استعمال جبکہ عام افراد کے لیے اگلے سال کے ابتدا میں دستیاب ہوسکتی ہے۔
چین کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے سربراہ گائو فو نے چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو بتایا تھا کہ کہ ملک میں اس وقت ویکسینز کے کلینیکل ٹرائلز دوسرے یا تیسرے مرحلے میں ہیں اور ممکنہ طور پر وہ اس وبا کی دوسری لہر کے وقت تک دستیاب ہوسکتی ہیں۔
گائو فو نے کہا ‘ہم ویکسین کی تیاری کے حوالے سے صف اول میں ہیں اور امکان ہے کہ ستمبر تک ایمرجنسی استعمال کے لیے ایک ویکسین تیار ہوچکی ہوگی، یہ نئی ویکسینز لوگوں کے کچھ خصوصی گروپس جیسے طبی ورکرز کے لیے استعمال کی جاسکیں گی’۔
ان کا کہنا تھا ‘ممکنہ طور پر عام افراد کے لیے ویکسین اگلے سال کی ابتدا میں دستیاب ہوگی، تاہم اس کا انحصار اس کی تیاری میں پیشرفت پر ہوگا’۔
دوسری جانب گزشتہ دنوں ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ چین ممکنہ طور پر دنیا کا پہلا ملک بن سکتا ہے جو ستمبر میں ہی کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسینز کو خطرے سے دوچار افراد کے لیے متعارف کراسکتا ہے چاہے اس دوران کلینیکل ٹرائل پر کام ہی کیوں نہ جاری ہو۔
برطانوی روزنامے ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے مقابلے میں کورونا وائرس کے علاج کو متعارف کرانے کے لیے چین کے طبی حکام نے ویکسینز کے حوالے سے گائیڈلائنز کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔
کسی بھی ملک کے مقابلے میں چین میں سب سے زیادہ 5 ویکسینز انسانی آزمائش کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔
ویکسین کی تیاری میں کامیابی سے کورونا وائرس سے متاثر چین کی معیشت کو بحال کرنے میں مدد ملے گی جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ویکسین کی تیاری کے تیز رفتار منصوبوں کو بھی دھچکا لگے گا۔
ویکسین کی تیاری پر نظر رکھنے والے ایک تھنک ٹینک ملکان انسٹیٹوٹ کے ماہر معاشیات ولیم لی کے مطابق ‘اگر چین ایسی ویکسین کے ساتھ آگے آیا جسے دنیا بھر میں قبول کرلیا جاتا ہے تو اس سے بہت زیادہ اثررسوخ حاصل ہوسکے گا’۔
چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے جون کے شروع میں ایک عالمی ویکسین کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ چین اب تک 4 ارب یوآن کووڈ 19 کی ویکسینز اور علاج کے لیے خرچ کرچکا ہے اور دوگنا سے زیادہ مزید خرچ کرے گا۔
اس وبا کے باعث چینی حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کے اہم شعبوں بشمول روبوٹیکس اور بائیومیڈیسین کے حوالے سے منصوبوں پر بھی کام تیز کردیا گیا ہے جبکہ مزید جراثیموں پر تحقیق کے لیے درجنوں لیبارٹریز کے قیام پر بھی کام کیا جارہا ہے۔
کورونا وائرس کے حوالے سے چین کی اہم ترین ویکسین کی تیاری میں سرگرم ٹیم کی سربراہ وائرلوجسٹ چن وائی نے بتایا ‘ہمیں مخصوص شعبوں میں ٹیکنالوجی پر اعتماد بڑھانے کی ضرورت ہے، ہمیں دیگر کی بجائے اپنی مضبوطی پر انحصار کرنا ہوگا، تاکہ ایک ارب سے زائد کی آبادی کا تحفظ کیا جاسکے’۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...