عمران خان کی معاشی ٹیم قوم کو گمراہ کر رہی ہے، اسحاق ڈار نے اعداد و شمار پیش کر دیئے

سابق وزیر خزانہ اور ن لیگ کے سینئر رہنماء اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ جو بھی حکومت آتی ہے وہ پچھلی حکومتوں کے حاصل کردہ قرضوں کو ادا کرتی ہے۔ عمران خان کیوں قوم کو قرضوں کے معاملے پر مس گائیڈ کر رہے ہیں؟ ہم بھی جب آئے تو پیپلز پارٹی نے قرضے حاصل کررکھے تھے وہ ہم نے ادا کیے، اسی طرح پیپلز پارٹی سابقہ دور کے قرضے ادا کرتی رہی۔

تفصیلات کے مطابق اپنے ویڈیو پیغام میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ عمران خان اسمبلی فلور پر آ کر کہتے ہیں کہ یہ حکومت ویژن کے بغیر نہیں چل سکتی لیکن عمران خان کا تو کوئی ویژن ہی نہیں ہے۔ آپ انسانیت کی بات تو کرتے جا رہے ہیں لیکن اخلاق کو آپ نے تباہ کر کے رکھ دیا ہوا ہے۔

عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر اخلاق اور نوجوان نسل کو تباہ کر دیا۔ آپ میرٹ کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے۔ آپکی کابینہ میں میرٹ کی تباہی مچائی گئی، غلط اعداد و شمار بتا کر قوم کو گمراہ نہ کریں۔

پاکستانی معیشت پہلے ہی تباہ ہوچکی ہے، کورونا وائرس نے تو معیشت کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔

عمران خان نے معیشت پر بات کی، جب وہ آئے معیشت کا برا حال تھا۔ لیکن عالمی اداروں کے پاس ساری تفصیل موجود ہے۔

کسی بھی حکومت کی ملنے والی معیشت کو دیکھا جائے تو پی ٹی آئی حکومت کو بہترین معیشت ملی۔ 5.8 گروتھ ریٹ، کم ترین مہنگائی، ٹیکس گروتھ ڈبل تھی۔ زبردست اعشاریے تھے، دنیا پاکستان کے حوالے پیشگوئی کررہی تھی کہ پاکستان جی 20 میں شامل ہوجائے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ عمران خان نے بلند ترین افراط زر کے حوالے سے غلط بیانی کی۔ کھانے پینے کی اشیاء بہت سستی تھی۔

ہمارے 5سالوں کی اوسطاً افراط زر تھی، مہنگائی کی شرح 1فیصد تھی۔ غربت سے ایک کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو نکالا تھا لیکن انہوں نے دوبارہ ایک کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو غربت میں جھونک دیا ہے۔ بے روزگاری کی شرح میں 40 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

یہ سارے میرے نمبرز نہیں ہیں، یہ سارے سرکاری اعدادوشمار ہیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی معاشی ٹیم کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے پانچ ہزار ارب قرضے واپس کیے۔

میں پوچھتا ہوں کیا حکومتیں قرضے واپس نہیں کرتیں؟ آپ کی حکومت نے قرضے ادا کرنے کی بجائے قرضوں میں اضافہ کر دیا۔ جتنے قرضے پی ٹی آئی کی حکومت حاصل کر چکی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ حکومت سابقہ حکومتوں کے سارے ریکارڈ توڑ چکی ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...