فصل پک چکی۔۔۔۔ہارون الرشید

لاہور (ویب ڈیسک) اسٹیبلشمنٹ نہیں‘ یہ سیاستدانوں کا کام ہے۔ مگر وہ ازکارِرفتہ ہو چکے۔ خود کو انہوں نے برباد کر لیا اور کھیتی اجاڑ دی۔ ایسا لگتا ہے کہ فصل پک چکی اور اس کی برداشت کا موسم آ پہنچا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ملک اس طرح نہیں چل سکتا۔ اس طرح نہیں جیسے

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری اسے چلانے کی کوشش کرتے رہے۔ اس طرح بھی نہیں‘ جس طرح جنرلوںنے اسے چلایا‘ مارشل لا کے تحت۔ کیسا حماقتوں اور تضادات میں گندھا یہ نظام ہے۔ ساٹھ سے ستر فیصد معیشت کالی ہے‘ غیر دستاویزی۔ باقی ماندہ بھی پورا ٹیکس ادا نہیں کرتی۔ ٹیکس وصول کئے بغیر‘ صحت‘ تعلیم‘ نظامِ عدل‘ حتیٰ کہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر بھی کیونکر ممکن ہے۔ غضب خدا کا‘ اسی فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ ججوں کی تعداد مطلوب سے ایک تہائی بھی نہیں۔ایک چھوٹا سا کاروبار‘ ایک چھوٹا سا گھر بھی اس طرح نہیں چل سکتا۔ وفاقی حکومت قرض پہ قرض لیتی رہی‘ خاص طور پہ پچھلے ایک عشرے میں۔ ٹیکسوں سے وصول ہونے والی آمدن میں تو صوبے حصہ دار ہوتے ہیں۔ غیر ملکی اور بینکوں سے لیا گیا پیسہ حکمران‘ جس طرح چاہیں لٹائیں۔ نوبت اب یہاں تک آ پہنچی ہے کہ قرضوں کا سود ادا کرنے کے لئے‘ وزیراعظم دربدر کشکول اٹھائے پھر رہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ملکوں سے‘ عالمی سیاست میں‘ جن کی کوئی اہمیت نہیں‘ ہم بھیک مانگ رہے ہیں۔ 22کروڑ کی قوم‘ اپنے بے لگام حکمرانوں کی وجہ سے‘ دنیا بھر میں رسوا ہے۔

وہ سرزمین‘ جس کی مٹی سونا اُگلتی ہے۔ جس کے نیچے معدنیات کے خزانے ہیں۔ دنیا کی ذہین ترین اقوام میں سے ایک‘ مگر تعلیم اور صحت میں پسماندہ‘ ٹیکنالوجی میں پسماندہ۔ آنے والے کل کے خوف سے سہما ہوا ایک معاشرہ۔ جذبات سے مغلوب‘ احساسِ محرومی کا شکار‘ جس کے نیم خواندہ گروہ مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھ لگتے… اور خودکش حملوں کا چارہ بنتے ہیں۔ انتہا پسند لسانی گروپوں کی پیروی کرتے اور نفرت کا ایندھن بنتے ہیں۔ جس کے دانشور این جی اوز کی نوکریاں قبول کرتے اور اپنے وطن کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جاتے ہیں۔ جس میں اخبار نویس پائے جاتے ہیں‘ جن کے رزق کا انحصار دوسروں کی خوشنودی پہ رہتا ہے۔ سیاسی لیڈر جو سمندر پار سے سرپرستی اور تھپکی کی امید اور تمنا رکھتے ہیں۔ نہیں کوئی ملک اس طرح نہیں چل سکتا۔ سننے میں جو کچھ آ رہا ہے‘ وہ کچھ قابل فہم ہے‘ کچھ ناقابل فہم۔ کہا جاتا ہے کہ شریف خاندان سودے بازی پہ آمادہ ہے۔ پس پردہ بات چیت کا عمل جاری ہے۔ ایک وفاقی وزیر نے تو نام لے کر کہہ دیا کہ فلاں محترم خاتون مذاکرات کر رہی ہیں۔ یہ کہ اگر تردید کریں تو وہ تفصیلات بیان کر دیں گے۔ جانچنا مشکل ہے‘

کچھ لوگ وثوق سے دعویٰ کرتے ہیں کہ خاندان دو بلین ڈالر ادا کرنے پر آمادہ تھا‘ مگر اڑچن آ پڑی۔ کہا جاتا ہے کہ تین بلین ڈالر کا ان سے تقاضا تھا‘ دو بلین وہ ادا کرنے پر تیار تھے مگر پاکستان اور لندن میں مقیم ان کے فرزند نہیں مانتے۔ ابھی کچھ دیر پہلے کراچی کے ایک اخبار نویس نے کہا: میاں صاحب کے فرزند کہتے ہیں: ہم نے آپ کو واپس نہ جانے کا مشورہ دیا تھا۔ عشروں کی کمائی ہم حکومت کے حوالے نہیں کر سکتے۔ لگ بھگ ایک برس ہوتا ہے‘ دوسرے شاہی خاندان کی متحرک خاتون ایک غیر سیاسی شخصیت کے ہاں گئی کہ ان کی مدد کریں۔ یہ تصدیق شدہ واقعہ ہے۔ ان صاحب نے محترمہ سے کہا کہ آٹھ بلین ڈالر ان کا خاندان رکھتا ہے‘ چار بلین دینے پر وہ آمادہ ہوں تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ اس نے کہا: آپ کی اطلاع درست نہیں۔ کل چار بلین ڈالر ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ دو بلین دے دیجئے۔ مشورہ کرنے کے لئے انہوں نے وقت مانگا مگر لوٹ کر نہیں آئیں۔سب جانتے ہیں کہ لوٹ مار ہوئی ہے اور ایسی لوٹ مار کہ خدا کی پناہ۔ تیس برس کے عرصے میں‘ پندرہ بیس سالہ اقتدار میں شریف خاندان کی دولت سینکڑوں گنا بڑھ گئی۔

دبئی‘ برطانیہ‘ سوئٹزرلینڈ‘ ہر کہیں ان کے اثاثے ہیں۔ سمندر پار یہ دولت کیسے پہنچی‘ اس سوال کا جواب وہ نہیں دیتے۔ اسی طرح برطانیہ‘ امریکہ اور دبئی میں زرداری خاندان کے اثاثے ہیں۔ بڑے بڑے درجنوں مکانات‘ ہزاروں ایکڑ اراضی اور شکر کے کارخانے۔ یہ سب کچھ انہوں نے کہاں سے حاصل کیا۔ کس طرح حاصل کیا؟ جمہوریت؟ جی ہاں‘ جمہوریت ہی واحد سیاسی نظام ہے‘ جس پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہ مگر کیسی جمہوریت ہے کہ شریف خاندان من مانی پہ تلا رہے اور پارٹی میں ایک اختلافی آواز بھی نہ ابھرے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ بینکوں کے سینکڑوں جعلی کھاتوں کا انکشاف ہو۔ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے شواہد پیش کیے جائیںمگر پارٹی کے رہنما اپنے لیڈر کا دفاع کرتے رہیں۔ بیرسٹر اعتزاز احسن‘ رضا ربانی‘ چودھری منظور حسین‘ قمر زمان کائرہ اور شیری رحمن ایسے رہنما۔ کیسا ہولناک منظر ہے۔ کیا کوئی معاشرہ یہ گوارا کر سکتا ہے اور اگر کر گزرے تو زندہ کیسے رہ سکتا ہے؟ یہ ناچیز اخبار نویس‘ ان لوگوں میں شامل ہے‘ مسلسل تحریک انصاف کی قیادت کو جو ٹوکتے رہتے ہیں کہ احتساب ہی واحد چیز نہیں۔ حکومت کی اور بھی بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ مگر حساب تو کرنا ہی ہوگا۔ اس کے سوا چارہ ہی کیا ہے؟

سندھ میں حکومت بدلتی ہے یا نہیں بدلتی مگر یہ مذاق تو جاری نہیں رہ سکتا۔ ایسا طرزِ حکومت‘ جس میں وزیراعلیٰ کی حیثیت ایک کارندے سے زیادہ نہیں۔ لوٹ مار میں‘ جس پر معاونت کا الزام ہے اور جو تحقیقات میں مددگار نہیں ہوتا۔ قانون نافذ کرنے کے لئے حکومت بنائی جاتی ہے یا قانون کو پامال کرنے کے لئے؟ آئین اور جمہوری روایات کی پاسداری بجا۔ کون اس سے اختلاف کرتا ہے لیکن حکومت اگر مافیا بن جائے۔ اگر باڑ ہی کھیت کو کھانے لگے۔ بہت دانائی کی وزیر اطلاعات سے توقع نہیں کی جاتی۔ مگر کل ایک معقول بات انہوں نے کہی کہ خود ہی وزیراعلیٰ مستعفی ہو جائیں۔ ایسے کسی لیڈر کو یہ منصب سونپا جائے‘ اس بے دردی سے قانون اور اخلاق کو جو پامال نہ کرے۔ محض ایک کٹھ پتلی نہ ہو‘ واقعی وزیراعلیٰ ہو۔ غالباًسندھ کے ناصر شاہ۔ کہا جاتا ہے کہ باغیوں کے لئے وہ قابلِ قبول ہوں گے۔ ان دوسروں کے لئے بھی جو مالِ غنیمت سمیٹنے والوں سے تنگ آ چکے۔ پراپرٹی کے شعبدہ باز‘ سیاستدانوں اور افسروں سے مل کر ملک کو جنہوں نے چراگاہ بنا دیا۔ جاگیردارانہ معاشرے کا فرسودہ پارلیمانی نظام کسی کام نہ آیا۔ یہ ایک گھنا جنگل ہے‘ درندے جس میں پرورش پاتے ہیں۔ آج نہیں تو کل‘ کل نہیں تو پرسوں اس کی بساط لپیٹنا ہوگی… اور یہی سب سے مشکل مرحلہ ہے اور اس سے بھی زیادہ چھوٹے صوبوں کی تشکیل‘ ڈھنگ سے جن کا نظام چلایا جا سکے۔ جی ہاں‘ قومی آمادگی کے بعد‘ ایک کم از کم اتفاق رائے کے ساتھ۔ اسٹیبلشمنٹ نہیں‘ یہ سیاستدانوں کا کام ہے۔ مگر وہ ازکارِرفتہ ہو چکے۔ خود کو انہوں نے برباد کر لیا اور کھیتی اجاڑ دی۔ ایسا لگتا ہے کہ فصل پک چکی اور اس کی برداشت کا موسم آ پہنچا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں