ناراض حکومتی اتحادی کو منانے کیلئے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی قیمت ادا راتوں رات کی جانیوالی ڈیل سے ملکی خزانے پر اربوں روپے کا بوجھ ڈال دیا گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے ناراض اتحادی جمہوری وطن پارٹی کو منانے کے لئے بڑا قدم اٹھا لیا۔ اس حوالے سے بتایا جا رہاہے کہ اتحاد بچانے کے لئے حکومت کی جانب سے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی قیمت ادا کی گئی ہے۔ 92 نیوز کی انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ حکومت نے شازین بگٹی کو منانے کے لئے قومی خزانے پر اربوں روپے کا بوجھ ڈال دیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ حکومت کی ہدایت پر ایم ڈی او جی ڈی سی ایل شاہد سلیم خان نے شازین بگٹی کو اوچ میں 2ہزار500 ایکڑ خالی اراضی کا کرایہ ادا کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے جس کے بعد شازین بگٹی کو جنوری 2018 سے لے کر اب تک 79 ہزار روپے فی ایکٹر کے حساب سے ادائیگی کی گئی ہے، مزید بتایا گیا ہے کہ 2017 سے یہ اراضی او جی ڈی سی ایل کے زیر استعمال نہیں رہی۔

سابق ایم ڈی او جی ڈی سی ایل نے 2016 میں ایک ہزار 300 ایکڑ اراضی کی لیز برقرار رکھتے ہوئے 2 ہزار 500 ایکڑ سرینڈر کر دی تھی۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت نے اس فیصلے کے بعد قومی خزانے پر 8 ارب روپے کا بوجھ ڈال دیا ہے۔ اس حوالے سے مزید انکشاف ہوا ہے کہ یہ فیصلہ غیر قانونی طور پر رات کے وقت دفتر کھول کر کیا گیا ہے جس میں ترمیمی معاہدہ ہونے سے قبل 77کروڑ 23 لاکھ کا چیک شازین بگٹی اور دو بھائیوں کو جاری کر دیئے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ اختر مینگل کے حکومتی اتحاد ختم کرنے کے بعد شازین بگٹی کی جانب سے بھی حکومتی اتحاد ختم کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ شازین بگٹی نے بھی عمران خان کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا جس کے بعد اس بات کے واضح امکانات موجود تھے کہ شاید ان کی جانب سے بھی حکومتی اتحاد ختم کر دیا جائے گا۔ لیکن اب حکومت نے اتحادی جمہوری وطن پارٹی کو منانے کے لئے بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ اس حوالے سے بتایا جا رہاہے کہ اتحاد بچانے کے لئے حکومت کی جانب سے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی قیمت ادا کی گئی ہے

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...