دشمن نے آپکا خوف اور طاقت دیکھ لی ہے۔ مودی کا لداخ میں شکست کھانے والے فوجیوں سے خطاب

لداخ (ویب ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودینے آج لداخ کا دورہ کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے لداخ کے قریب نمو کے علاقے کا اچانک دورہ کیا ہے۔ اس دورے کا مقصد بھارتی فوج کے جوانوں سے ملاقات اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ نریندر مودی کے ہمراہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور آرمی چیف ایم ایم نارواں بھی تھے۔

نریندر مودی زخمی فوجیوں کو جھوٹا دلاسہ کرتے رہے اور جھوٹی تعریفیں کر کے حوصلہ بندھاتے رہے۔اس موقع پر نریندر مودی نے لداخ میں شکست کھانے والے فوجیوں سے کہا کہ دشمن نے آپکا خوف اور طاقت دیکھ لیا ہے۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہمارے فوجیوں کی بہادری اور قربانی کی وجہ سے خود مختار بھارت کے عزم کو تقویت ملی ہے۔
مودی نے ان فوجیوں سے خطاب کیا جن کی چینی فوجیوں سے خوب پٹائی کی اور کہا کہ آپ کی بہادری سے دنیا کو پیغام پہنچا ہے۔

جب کہ سرحد کی حفاظت نہ کرنے والے فوجیوں سے کہا کہ آپکی وجہ سے قوم پرسکون ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ مہینے سے لداخ کے علاقے میں بھارت کو چین کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔ اس شکست کے بعد بھارت کی جانب سے یہ بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ کسی طرح اپنے شہریوں کا دھیان لداخ سے ہٹا کر پاکستان کی طرف کر دے، لیکن اسے ابھی تک اس میں بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لداخ کے محاذ پر چین سے شکست کھانے اور ا سٹاک ایکسچینج پر دہشتگرد حملے کے بعد بھارت کا واویلا عروج پر پہنچ گیا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا ہے، گزشتہ روز بھارتی میڈیا دعویٰ کر رہا تھا کہ چین اور پاکستان مل کر بھارت میں کاروائی کر سکتے ہیں۔انڈیا ٹوڈے نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی فوج لداخ میں موجود ہے۔ بھارتی میڈیا واویلا کر رہا ہے کہ پاکستان نے گلگت بلتستان کے علاقے میں فوجی دستے منتقل کرنا شروع کردیئے ہیں۔

پاکستان نے 20،000 اضافی فوجیوں کو شمالی لداخ میں تعینات کیا ہے۔ بھارت یہ بھی الزام عائد کر رہا ہے کہ چین کچھ تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کاروائی کر سکے۔ بھارت الزام عائد کر رہا ہے کہ چین اور پاکستان مل کر بھارت میں کاروائی کے مواقع ڈھونڈ رہے ہیں۔ تا ہم ان تمام الزامات کے بعد ابھی تک بھارت کو میدانی اور لفظی جنگ، دونوں میدانوں میں شکست کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...