زائد المیعاد اقامہ یا ویزہ رکھنے والے غیر ملکی باشندوں کو کویتی حکومت نے بڑی خوشخبری سنادی

کویت کی حکومت نے زائد المیعاد اقامہ یا ویزہ رکھنے والے 15 ہزار غیر ملکی باشندوں کو ملک بدر نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق کویت کے وزیر داخلہ نے بتایا کہ حکومت نے انسانی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن 15 ہزار غیر ملکی افراد کو ملک میں رہنے کی مزید اجازت دے دی جن کے اقامہ یا ویزہ زائد المیعاد (ایکسپائر) ہوگئے تھے۔

کویتی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اقامہ قوانین کی خلاف ورزی میں شامل ہونے والے غیر ملکیوں کو تاحکم ثانی ملک بدر نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کرونا کی وجہ سے سرکاری ادارے بند ہیں جس کی وجہ سے غیر ملکی باشندے اپنے اقامہ یا ویزہ میں بروقت توسیع نہیں کراسکے، اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں میں وہ افراد شامل ہیں جن کی کاغذات کے مطابق کویت میں قیام کی میعاد 2 جنوری سے 29 فروری کے درمیان ختم ہو گئی تھی۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق ان پندرہ ہزار افراد میں وہ شہری بھی شامل ہیں جن کی کویت کی شہریت کی معیاد ختم ہوگئی تھی یا وہ سیاحت و کاروبار کی غرض سے کویت کے دورے پر تھے۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ فیصلے کے بعد اب غیر ملکیوں کو اکتیس اگست تک کویت میں رہنے کی قانونی اجازت ہوگی البتہ جن کے اقامے یکم جنوری 2020 سے پہلے ایکسپائر ہوگئے ان کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ یکم جنوری سے پہلے جن غیر ملکیوں کا اقامہ یا ویزہ ختم ہوگیا وہ اپنی مرضی سے اپنے وطن واپس جاسکتے ہین بصورت دیگر حکومت ایکشن لے کر انہیں ملک بدر کردے گی۔

کویتی وزارت داخلہ نے بتایا کہ فیصلے پر آئندہ ہفتے سے عمل درآمد شروع ہو جائے گا، یہ فیصلہ کویت کی شہریت رکھنے والوں، ان کے اہل خانہ اور ملازمین پر لاگو نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ کویت کی حکومت نے زائد المعیاد اقامہ یا ویزہ رکھنے والے تمام غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا تھا، حکومت نے انسانی بنیادوں پر اس فیصلے کو اب تبدیل کردیا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...