پاکستانی ماہرین کا شاندار اعزاز : میانوالی میں قائم چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ نے زبردست ریکارڈ قائم کردیا

میانوالی (ویب ڈیسک)ضلع میانوالی میں قائم چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے یونٹ نمبر 4 (C-4) نے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ دن تک بجلی کی مسلسل پیداوار کا منفرد ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ گزشتہ روز پلانٹ نے ایک سال مسلسل آپریشنل ہونے کا سنگ میل عبور کیا ہے۔ سی فور پاور پلانٹ 340میگاواٹ بجلی پیدا کرنے

کی استعداد رکھتا ہے۔ اس سے قبل بھی چشمہ نیوکلئیر پاور پلانٹ کے یونٹ نمبر 2نے 302 دن تسلسل کے ساتھ بجلی کی فراہمی کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک میں قائم بجلی کے حصول کے دیگر ذرائع میں سے کسی بھی پاور پلانٹ نے اب تک یہ سنگ میل عبور نہیں کیا ہے۔ ایٹمی توانائی کمیشن کے ممبر پاور سعیدالرحمان نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ’’ اس تاریخی سنگ میل کا حصول، ہمارے نیوکلئیر پاور پلانٹ کے سائنسدان، انجینئرز اور ٹیکنیشنز کی محنت اور جانفشانی کی بدولت ممکن ہوا ‘‘۔ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے زیرِانتظام چشمہ کے مقام پر چار نیو کلیئر پاور پلانٹسC-1,C-2, C-3 اور C-4 سی مجموعی طور پر 1330میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ کو مہیا کی جا رہی ہے۔ ان پاور پلانٹس سے 11روپے16 پیسے فی یونٹ کے اوسط نرخ پر بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ جبکہ یہ پلانٹس 95 فیصد سے ذیادہ کپیسٹی فیکٹر پر چل رہے ہیں۔ کراچی کے ساحل کے پاس چین کے تعاون سے مزید دو ایٹمی بجلی گھر کے ٹو اور کے تھری زیرتعمیر ہیں جن کی اگلے سال تکمیل کے بعد مزید 2200میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی۔اسی تاریخی موقع پر چیئرمین ایٹمی توانائی کمیشن محمد نعیم (ہلال ِامتیاز، ستارہ ِامتیاز) نے ممبر پاور سعیدالرحمان صاحب اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے ٹیم کی مہارت کی تعریف کی اور مزید کہا کہ ان دنوں جبCovid-19کے مشکل دور میں افرادی قوت کی فراہمی اور اس کی نقل و حرکت پر پابندیاں تھیں ان کی ٹیم نے نیوکلیئر پاور پلانٹ کے نہ صرف محفوظ آپریشن کو یقینی بنایا بلکہ اس اہم سنگِ میل کے حصول کو بھی ممکن بنایا۔ کینوپ کے مقام پر 1972ء میں پہلے ایٹمی بجلی گھرسے اب تک ہمارے پاس سیفٹی کے اعلیٰ معیار کو قائم رکھتے ایٹمی توانائی کی پیداوار کا 48سال کا قابلِ قدرتجربہ موجودہے۔ K-2اورK-3 کے منصوبوں کی تکمیل کے بعد انشاء اللہ مزید2200میگا واٹ بجلی کی فراہمی شروع کر دی جائے گی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...