پی ٹی آئی کو دھچکا۔۔۔اہم رہنمانے درجنوں کارکنان سمیت پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا

کراچی (ویب ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما اشرف علی نے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔اس بات کا اعلان انہوں نے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ انصاف پی ایس 103 کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری اشرف علی نے اپنے درجنوں کارکنان سمیت پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔ اس بات کا اعلان انہوں نے وزیر تعلیم و محنت سندھ و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔

اس موقع پر تحریک انصاف کراچی پی ایس 103 کے عہدیداران اور کارکنان کی بڑی تعداد نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ۔پی ایس 103 ڈسٹرکٹ ایسٹ کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری اشرف علی نے کہا کہ ہم نے تحریک انصاف کو نئی جماعت ہونے اور ان کے دعوں کو دیکھتے ہوئے اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت سمیت ان کی صوبائی و کراچی کی قیادت نے ہمیں مکمل مایوس کیا اور ان کے تمام عوام سے کئے گئے دعوے یوٹرن کی نظر ہوگئے ہیں۔

اشرف علی نے کہا کہ پیپلزپارٹی اس ملک کی واحد جماعت ہے، جو مکمل جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور اس وقت کراچی سمیت سندھ بھر میں پیپلزپارٹی عوام کے لیے جو کام کررہی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔سعید غنی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی کے تمام اضلاع سے مختلف جماعتوں کے عہدیداران اور کارکنان بڑی تعداد میں پیپلزپارٹی میں شامل ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اشرف علی سمیت دیگر ان کے کارکنان گذشتہ 1 ماہ سے رابطے میں تھے تاہم ہم کرونا وائرس کے باعث پریس کانفرنس نہیں کرسکے تھا اور آج بھی تمام شمولیت کرنے والوں کو نہیں بلوایا ہے۔سعید غنی نے کہا کہ اس وقت بھی کراچی سمیت صوبے بھر سے مختلف سیاسی جماعتوں کے عہدیداران اور کارکنان کی بڑی تعداد پیپلز پارٹی کے علاقائی اور صوبائی قیادت کے رابطوں میں ہیں اور وہ پیپلز پارٹی میں جلد شمولیت کا اعلان کریں گی۔

سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ سلیکٹیڈ حکومت اور ان کے نااہل اور نالائق وزیر اعظم اور وزرا نے جس طرح یوٹرن پر یوٹرن لے رہے ہیں اور جس طرح دو سال میں انہوں نے اس ملک کی معیشت اور عوام کے معیار زندگی کو تباہ کیا ہے اب عوام میں ان کی نفرت کھل کر سامنے آرہی ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...