7 مہینوں بعد پاکستان کے زَرمبادلہ بُلند ترین سطح پر ، راتوں رات ملکی خزانے میں کتنے ارب ڈالر آگئے،پاکستانی خوشی سے نہال

لاہور( نیوز ڈیسک ) عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کو امداد کی مد میں 2 ارب ڈالرز کی خطیر رقم موصول، حاصل کردہ رقم میں سے 40 فیصد بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں چلی گئی۔ تفصیلات کے مطابق مختلف عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کو امداد کی مد میں دو ارب ڈالرز کی رقم

موصصول ہوئی جن میں سے آٹھ سے نو سو ملین ڈالرز کی رقم قرضوں کی مد میں چلی گئی۔ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا ہے کہ آٹھ سے نو سو ملین ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی کے بعد پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر میں ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، اپریل 2020ء کے بعد پہلی بار مرتبہ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر اضافے کے بعد 11.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر گزشتہ 7 مہینوں کی کم ترین سطح پر تھے، اب ذر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عالمی اداروں سے جو امداد کی مَد میں رقم ملی ہے اس میں ورلڈ بینک سے سات سو پچیس ملین ڈالر، ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے پانچ سو ملین ڈالر جبکہ ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک پانچ سو ڈالر شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک زرمبادلہ ذخائر کا ڈیٹا ایک ہفتہ کی تاخیر سے جاری کرتا ہے، چائنیز بینک کی جانب سے پاکستان کومزید 1.3 ارب ڈالر موصول ہوچکے ہیں، اور اب آئندہ ہفتے جاری ہونیوالے زرمبادلہ ذخائر میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

رواں سال زرمبادلہ ذخائر 2018 کے مقابلے میں کم ترین سطح سے دوگنے ہوچکے ہیں۔ڈالر اکاؤنٹ گزشتہ سال اکتوبر میں سرپلس میں چلا گیا تھا۔موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج پر دستخط کئے، ورلڈ بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور ایشین انویسٹیمنٹ بینک نے بھی تعاون کا وعدہ کیا۔آئی ایم ایف کے مطابق اس پروگرام کے دوران منصوبے کے تحت مختلف اداروں سے 38 ارب ڈالر کی فنڈنگ کیلئے راہ ہموار کرنا تھا۔آئی ایم ایف کے پاس جانے سے معاشی شرح نمو روکنے کے اقدامات کئے گئے۔ درآمدات کم کی، روپے کی قدر میں کمی اور سود کی شرح میں اضافہ ہوا، جس سے قرض لینا مہنگا ہوگیا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...