اغوا کیس: سرفراز بگٹی پر خطرے کی تلوار ابھی تک لٹک رہی ہے، عبوری ضمانت کی استدعا مسترد

سپریم کورٹ نے نو سالہ بچی کے اغوا کے کیس میں سرفراز بگٹی کی عبوری ضمانت کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

جسٹس مظہر عالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور جسٹس قاضی امین بھی بینچ کا حصہ تھے۔

سرفراز بگٹی کے وکیل کامران مرتضی نے استدعا کی کہ آئندہ سماعت تک عبوری ضمانت دے دیں اگر ضمانت نہ ملی تو بڑی مشکل ہو جائے گی۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ سرفراز بگٹی کو چھ ماہ سے کسی نے گرفتار نہیں کیا تو اب کون گرفتار کرے گا۔ معزز جج نے کہا کہ اگر ضمانت بنتی ہوئی تو دیں گے۔

دو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیے کہ سرفراز بگٹی با اثر شخص ہیں، کوشش کریں بچی مل جائے۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ وکیل صاحب آپ سمجھ سکتے ہیں، ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ سرفراز بگٹی ضمانت قبل گرفتاری کی درخواست پر اگلی سماعت14 جولائی کو ہوگی۔

ایک 9سالہ بچی ماریہ کی نانی نے سرفراز بگٹی کو اغوا کے مقدمے میں نامزد کیا تھا۔ کوئٹہ بجلی روڈ پولیس اسٹیشن میں دائر ایف آئی آر کے مطابق نانی اپنی پوتی کو اس کے باپ توکل علی سے ملوانے عدالت لے گئی تھی۔

ایف آئی آر کے متن میں درج ہے کہ سحرش نامی خاتون کے قتل کے بعد عدالت نے اس کی بیٹی کو نانی کے حوالے کیا تھا۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ عدالت میں پیشی کے موقع پر بچی کا والد لڑکی کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر سینیٹر سرفراز بگٹی کے گھر لے گیا تھا۔

خاتون نے سینیٹر سرفراز بگٹی سے رابطہ کیا تو انہوں نے واقعہ میں ملوث ہونے سے انکار کردیا تھا۔ بچی کے اغوا کے مقدمے میں اس کے والد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...