اسٹاک ایکسچینج حملے میں مارے جانے والے دہشت گرد سلمان کی بہن کا انکشاف

کراچی (ویب ڈیسک) ’سلمان کو سرینڈر کا کہتے تو فون کاٹ دیتا تھا‘ سٹاک ایکسچینج حملے میں مارے جانے والے دہشتگرد سلمان کی بہن نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے سلمان کو بہت بار کہا کہ ہتھیار ڈال دو لیکن وہ یہ سن کر فون کی لائن کاٹ دیتا تھا۔ کراچی کے مصروف ترین آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر 29 جون 2020 کو حملے میں ملوث چار میں سے ایک سلمان حمل کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ اسے کئی مرتبہ ہتھیار ڈالنے کے لیے کہتے تھے لیکن وہ یہ سن کر فون کی لائن کاٹ دیتا تھا۔
انڈیپینڈنٹ نیوز کے مطابق سلمان کی بہن سائرہ نے انٹرویو میں بتایا ہے کہ سلمان کے چار بھائی ہیں، جن میں سے سب سے بڑا بھائی دبئی میں ہے جبکہ باقی دو بھائی تیسری اور پانچویں جماعت میں پڑھتے ہیں۔

اس کے علاوہ گھر میں دو بہنیں اور والدہ ہیں جبکہ ان کے والد کا انتقال 2012 میں ہوگیا تھا۔ سائرہ نے بتایا کہ سلمان نے میٹرک کی تعلیم بلوچستان کےضلع کیچ کے شہر تربت میں واقع زبیدہ جلال خان سکول سے حاصل کی تھی۔

سائرہ کے مطابق ان کے بھائی نے میٹرک کے بعد لورالئی میں واقع بلوچستان ریزیڈنشل کالج (بی آر سی) میں داخلہ لیا تھا، لیکن پھر تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ اس دوران ان کے والد کا انتقال ہوگیا، جس کے بعد ان کا بھائی سلمان گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ سائرہ نے بتایا کہ 2012 میں ہمارے والد کے انتقال کے بعد وہ گھر سے چلا گیا تھا۔ کچھ سال بعد اچانک سے ایک دن 2015 یا 2016 میں محلے کے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ اس نے یہ کارنامہ (بی ایل اے میں شمولیت اختیار کرنا) سر انجام دیا ہے۔
اکثر ہمارا فون پر رابطہ ہوتا تھا، ہم نے اسے بہت بار کہا کہ ہتھیار ڈال دو لیکن وہ یہ سن کر فون کی لائن کاٹ دیتا تھا۔ وہ ایک بار ہم سے ملنے کے لیے گھر آیا تھا، صرف ایک رات کے لیے۔ اس ملاقات میں اس نے ہمیں اپنے حوالے سے کچھ نہیں بتایا، صرف ہمارا حال پوچھنے کے لیے آیا تھا، پھر چلا گیا اور دوبارہ نہیں آیا۔ سائرہ کے مطابق انہیں اپنے بھائی کی ہلاکت کے بارے میں ٹی وی کے ذریعے معلوم ہوا تھا۔ 29 جون کو ٹی وی چینلز پر کراچی میں پاکستان سٹاک ایکسچینج سے متعلق نشر ہونے والی خبروں میں حملہ آوروں کے نام بھی بتائے گئے تھے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...