کویت سے8لاکھ بھارتیوں کو ڈی پورٹ کرنے کا اعلان بھارتی انتہا پسند وزیر نے کویتیوں کو ’نمک حرام‘ کہہ ڈالا

ریاض(ویب ڈیسک) کویتی حکومت نے چند روز قبل آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی تارکین کو مملکت سے نکالنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ کویت کی قومی اسمبلی نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو مملکت سے لاکھوں تارکین وطن کی ملازمتیں ختم کر کے انہیں واپس بھیجنے کے لیے ایک بل تیار کر رہی ہے۔ اس بل میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ مملکت میں بھارتی باشندوں کی گنتی 15 فیصد سے زیادہ نہیں ہو گی۔

جونہی اس بل کے حوالے سے خبریں سامنے آئیں، بھارتی کی مذہبی انتہا پسند عوام اورمسلم دشمن بھارتی جنتا پارٹی کی جانب سے کویت اور کویتی عوام کے خلاف شرمناک زبان استعمال کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔بھارتی ہندوتوا کے حامی اور آر ایس ایس کے نظریے کے پیروکاروں نے کویت کی جانب سے بھارتیوں کو بے دخل کرنے کے فیصلے کو ہندو مسلم تنازعے کا رنگ دے دیا ہے اور اسے ہندوؤں کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیا جا رہا ہے۔

مسلمانوں سے دُشمنی کے لیے مشہور مودی کی کابینہ کے وزیر سبرامنیم سوامی نے اپنی اک ٹویٹر پوسٹ میں کویت والوں کو ’نمک حرام‘ قرار دے دیا ہے۔سوامی سبرامنیم نے اپنی پوسٹ میں لکھا ”کویتی حکومت نمک حرام ہے۔“سبرامنیم نے دعویٰ کیا کہ 1991ء میں عراق کے صدر صدام حسین کی جانب سے کویت پر قبضے کے بعد میں نے بھارتی وزیر اعظم چندر شیکھر کو کہا تھا کہ وہ کویت کی مدد کرنے والی امریکی ایئر فورس کو ری فیولنگ میں مدد دے۔
جس کا کویت کو آزاد کرانے میں فائدہ پہنچا تھا۔

سبرامنیم کی جانب سے کویتی حکومت کو نمک حرام کہنے پر کویتی عوام شدید مشتعل ہو گئے ہیں۔ سوامی سبرامنیم کی اس ہرزہ سرائی کے جواب میں کویتی سوشل میڈیا ایکٹویسٹ المحامی مجبل الشریکہ نے بھارتیوں کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی ہندوتوا نظریے کی حامی حکومت کویت سے اربوں ڈالر ڈکارنے کے بعد، ہندوستانیوں سے اچھے برتاوٴ کے بعد کویت کو نمک حرام کہہ رہی ہے۔
الشریکہ نے مزید کہا کہ اس سے پہلے بی جے پی ممبر تیجسوی سوریا نے کویتی خواتین سے متعلق گھٹیا زبان استعمال کی تھی اور اب ایک اور سبرامنیم سوامی ہمیں نمک حرام کہہ رہا ہے، اس شرمناک گفتگو کا جواب لازمی دیا جائے گا۔سوشل میڈیا پر بھارتی اور کویتی عوام میں ایک جنگ چھڑ گئی ہے۔

کویتی عوام نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متعصب بھارتی لیڈروں اور ہندوتوا کے حامیوں کو ایسا کرارا جواب دیا جائے کہ وہ لمبے عرصے تک اپنی زبان کھولنے کی جرات نہ کر سکیں۔
واضح رہے کہ کویتی حکومت نے آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی تارکین کو مملکت سے نکالنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ کوروناکی حالیہ وبا کے دوران مملکت میں اس وباکے پھیلاؤ کا ذمہ دار خاص طور پر بھارتی اور بنگلہ دیشی شہریوں کو ٹھہرایا گیا اور انہیں فوری ڈی پورٹ کرنے کے لیے کویتی باشندوں نے سوشل میڈیا پر تحریک بھی چلائی۔ تارکین سے متعلق یہ بل جونہی منظور ہو گیا تو مملکت سے 8 لاکھ بھارتی ملازمین کو نکال دیا جائے گا۔ کیونکہ اس وقت کویت میں تارکین وطن میں سرفہرست بھارتی باشندے ہیں جن کی گنتی ساڑھے چودہ لاکھ سے زائد ہے۔ پندرہ فیصد تک کوٹا محدود کرنے کی صورت میں کویت میں صرف ساڑھے چھ لاکھ بھارتیوں کو رہنے کی اجازت ہو گی، باقی 8 لاکھ بھارتیوں کو باہر نکال دیا جائے گا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...