اسٹیٹ بینک نے 4 لاکھ روپے سے زائد رقم چارے میں کتر دینے والے شکر گڑھ کے رہائشی کو خوشخبری سنا دی

شکرگڑھ (ویب ڈیسک) اسٹیٹ بینک نے 4 لاکھ روپے سے زائد رقم چارے میں کتر دینے والے شکر گڑھ کے رہائشی کو خوشخبری سنا دی، مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اگر شہری چارے میں کتر دینے والے نوٹوں کا آدھا اور نمبرز والا حصہ فراہم کر دے تو اس کا کلیم قبول کر لیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے شہر شکرگڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کی جانب سے 4 لاکھ روپے سے زائد کی رقم چارے میں کتر دیے جانے کے واقعے پر اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے شہری کو خوشخبری سنا دی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر شہری چارے میں کتر دینے والے نوٹوں کا آدھا اور نمبرز والا حصہ فراہم کر دے تو اس کا کلیم قبول کر لیا جائے گا اور اسے چارے کی مشین میں کتر دیے جانے والی رقم دوبارہ فراہم کر دی جائے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اخلاص پور میں بیوپاری نے 4 لاکھ 20 ہزار روپے کی رقم غلطی سے ٹوکے سے کتر ڈالی تھی۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شکر گڑھ کے علاقے اخلاص پور میں ایک بیوپاری 4 لاکھ 20ہزار روپے کی رقم خریداری کے لیے گھر لے آیا،رقم سے بھرے شاپر کو چارہ مویشیوں کے چارے کے قریب رکھا اور خود چارہ مشمین پر کام کرنے لگا۔طارق نامی شخص نے بے دیہانی میں چارے کے ساتھ پیسوں والا شاپر بھی چارے مشین میں ڈال دیا اور 4لاکھ 20ہزار روپے کی رقم خود ہی کتر ڈالی۔

طارق نامی شخص کا کہنا ہے کہ میں غریب آدمی ہوں غلطی سے اپنا نقصان کر بیٹھا ہوں۔ گورنر اسٹیٹ بینک سے گزارش ہے کہ میری مدد کی جائے۔خیال رہے اس سے قبل ایک ایسا واقعہ جہلم میں پیش آیا تھا جہاں دو بہنوں نے 17لاکھ روپے جلا دئیے تھے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ جہلم میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا جہاں دو بہنوں نے اپنے بینک اکاؤنٹ سے پیسے نکلوائے اور پھر انہیں سر عام نذر آتش کر دیا۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ایک شخص نے دونوں بہنوں کو پیسے جلانے سے روکنا چاہا تو ایک نے پستول نکال لی اورکہا کہ انہیں اپنی مرضی کرنے کا پورا حق ہے۔ کچھ ہی دیر میں وہاں ایک ہجوم اکھٹا ہو گیا اور تمام لوگ اپنے سامنے 17 لاکھ روپے جلتا ہوا دیکھتے رہے تاہم دونوں بہنوں نے یہ کام اپنی مرضی سے کیا تھا۔لیکن حالیہ واقعے میں بیوپاری نے 4 لاکھ 20 ہزار روپے کی رقم غلطی سے گنوا دی جس کے بعد وہ شدید پریشان بھی ہے۔مذکورہ شخص کا کہنا ہے کہ میں غلطی میں نقصان کر بیٹھا ہوں اس لیے گورنر اسٹیٹ بینک سے گزارش ہے کہ میری مدد کی جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں