- Advertisement -

بھیرہ واقعہ میں ملوث فیملی نے احسن اقبال سے اپنے عمل پر معذرت کی

- Advertisement -

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں پیش آئے نامناسب واقعے میں ملوث خاندان نے معافی مانگی لی۔
خیال رہے کہ بھیرہ انٹرچینج پر واقع ایک ریسٹورنٹ میں بظاہر پی ٹی آئی کے حامی دکھنے والی فیملی نے احسن اقبال کا مذاق اڑایا تھا اور نعرے بازی کی تھی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خواتین اور نوجوان حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور وزیر کو گالیاں دے رہے ہیں جبکہ اونچی آواز میں انہیں چور بھی کہا جا رہا ہے۔
اس اچانک پیش آئی صورتحال کے باوجود وزیر نے فوری طور پر کوئی ردِ عمل دینے سے گریز کیا۔
مذکورہ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو بڑی تعداد میں لوگوں نے اس فیملی کے طرز عمل پر تنقید کی اور اسے عدم برداشت اور غیر اخلاقی عمل قرار دیا۔
بعدازاں ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کریں گےبلکہ یہ معاملہ عوام کی عدالت میں چھوڑ دیا ہے۔
انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے لوگوں میں نفرت کا کلچر پروان چڑھایا ہے، جیسا جاہل اور پاگل خود ہے ویسے ہی پیروکار پیدا کر رہا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے ان کی مقبولیت پر کوئی فرق نہیں پڑا لیکن وہ کلچر اجاگر ہوا ہے جو عمران خان اپنے پیروکاروں کو سکھا رہا ہے۔
احسن اقبال نے کہا تھا کہ معاشرے میں ‘نفرت اور تقسیم کی بیماری’ پاکستان کو کینسر کی طرح کھوکھلا کر رہی ہے۔
تاہم آج ایک ٹوئٹ میں انہوں نے بتایا کہ ‘بھیرہ میں پیش آئے واقعے میں ملوث فیملی نے نارووال آ کر ملاقات کی اور اپنے عمل پر پچھتاوے اور شرمندگی کا اظہار کر کے معذرت کی’۔
اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے پھر دہرایا کہ ‘میں پہلے ہی ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ کرنے کا اعلان کر چکا تھا’۔

بھیرہ واقعہ میں ملوث فیملی نے نارووال آ کر ملاقات میں اپنے عمل پر معذرت کی،پچھتاوے اور شرمندگی کا اظہار کیا۔میں پہلے ہی ان کیخلاف قانونی چارہ جوئی نہ کرنے کا اعلان کر چکا تھا۔ہم سب پاکستانی ہیں ایک دوسرے سے اختلاف کے حق کو نفرت میں تبدیل نہیں کرنا اور باہمی احترام قائم رکھنا ہے۔ pic.twitter.com/Ck1z4YNqxs
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) July 10, 2022
وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم سب پاکستانی ہیں ایک دوسرے سے اختلاف کے حق کو نفرت میں تبدیل نہیں کرنا اور باہمی احترام قائم رکھنا ہے’۔