عمران اینڈ کمپنی پھر ناکام : چینی 120 روپے کلو ۔۔۔۔۔۔ اقتدار کی راہداریوں سے باخبر صحافی کی بڑی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں پندرہ لاکھ چوہتر ہزار دو سو ٹن چینی موجود ہے اور پاکستان کی ضرورت ساڑھے پانچ لاکھ ٹن ماہانہ ہے۔ پنجاب میں نو لاکھ اٹھانوے ہزار دو سو ٹن، سندھ میں پانچ لاکھ چودہ ہزار پانچ سو ٹن اور خیبرپختونخوا میں اکسٹھ ہزار پانچ سو ٹن چینی موجود ہے۔

نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ اعداد و شمار پچیس جولائی تک کے ہیں۔ ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اکتوبر میں یہ ذخائر ختم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد کیا ہو گا۔ کرشنگ سیزن تو نومبر کے پہلے ہفتے میں شروع ہوتا ہے اور نئی چینی مارکیٹ میں آتے آتے نومبر کا آخری ہفتہ شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کبھی آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر حکمت عملی ترتیب نہیں دی۔ وزراء کےپاس اتنا وقت نہیں ہے کہ ایسے مسائل اور انسانی ضروریات پر توجہ دیں اس لاپرواہی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کھانے پینے کی تمام اشیاء اور ادویات سمیت ہر چیز تیزی کے ساتھ عام آدمی کی پہنچ سے نکلتی جا رہی ہے اور اب چینی اڑان بھرنے والی ہے۔ ہمیں لگ بھگ ڈیڑھ پونے سال ہونے کو آئے ہیں اشیائ￿ خوردونوش کی فراہمی اور قیمتوں کے طریقہ کار پر جس تسلسل کے ساتھ لکھا ہے اور اس شعبے کے ہر ہر پہلو کو جس تفصیل کے ساتھ حکومت کے سامنے پیش کیا ہے اگر حکومت اس پر تھوڑی توجہ دیتی تو حالات مختلف ہو سکتے تھے۔ عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا ہو سکتی تھی۔ قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکتا تھا لیکن پاکستان کے عام آدمی کی بدقسمتی ہے کہ حکومت نے زندگی کی ضروری اشیاء کی فراہمی کے معاملے میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود جو چیزیں ہم خود کاشت کر سکتے ہیں اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں انہیں بھی امیورٹ کرنا پڑ رہا ہے۔ چینی کے بحران سے بچنے کے لیے بھی ہمیں امپورٹ کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ پہلے ہم نے چینی بیرون ملک بھیجی اب بیرون ملک سے چینی خرید کر اپنی ضرورت پوری کریں گے۔ بیڈ گورننس کی اس سے بدترین مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ اس کا کریڈٹ لینے کے لیے بھی کئی لوگ میدان میں آئیں گے اور یہ کہیں گے کہ ملکی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے اور ہم نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔چینی کے اس ممکنہ بحران کا مقابلہ کیسے کرنا ہے حکومت کو اس حوالے سے ابھی کام شروع کر دینا چاہیے۔ اگر اس میں تاخیر ہوئی تو یاد رکھیں ناصرف چینی کی قلت پیدا ہو گی بلکہ یہ ڈالر کے ریٹ کو بھی پیچھے چھوڑ جائے گی۔ اس حوالے فوری طور پر پالیسی بنانے اور بروقت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ نیا کرشنگ سیزن نومبر کے پہلے ہفتے میں شروع ہوتا ہے اور چینی مارکیٹ میں آتے آتے تیسرا ہفتہ ہو جاتا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ اپنی چینی مارکیٹ میں آنے سے پہلے تک حکومت کے پاس ساڑھے پانچ لاکھ ٹن کے ذخائر ہونے چاہیئں۔ حکومت کو کیا کرنا ہو گا جب ملک میں چینی موجود نہیں ہے اور نہ ہی فوری طور پر پیداوار کی صلاحیت موجود ہے۔ اس صورتحال مین حکومت کو چینی کے ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے امپورٹ پالیسی کا اعلان کرنا چاہیے۔

اگست میں امپورٹ پالیسی کا اعلان اس بحران سے بچاؤ کا راستہ کھول سکتا ہے۔ اب صرف امپورٹ کی اجازت دینا ہی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چینی امپورٹ کرتے ہوئے تمام ٹیکسز میں بھی چھوٹ دینا ہو گی۔ اس کے ساتھ پرائیویٹ امپورٹرز کو بھی اجازت دینا پڑے گی۔ حکومت اس مسئلے پر فوری حکمت عملی بنایے فیصلے کرے اور چینی کے ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے اقدامات کرے۔ بروقت امپورٹ پالیسی، ٹیکس میں چھوٹ اور پرائیویٹ امپورٹرز کی حوصلہ افزائی سے چینی کے دستیابی کو ناصرف یقینی بنایا جا سکتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قیمتوں کو بھی قابو میں رکھا جا سکتا یے۔ اگر حکومت بروقت بہتر فیصلہ کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو چینی کی خرید و فروخت ستر پچھہتر روپے میں ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر تیار رہیں جیسے ہر روز ڈالر کی قیمت بڑھنے کی بڑی اور بری خبر سننے کو ملتی ہے چینی کی صرف قیمت بڑھنے کی خبر نہیں ملے گی بلکہ اس کی عدم دستیابی کی اضافی خبر بھی عوام تک پہنچے گی۔ احتجاج ہوں گے اور پھر وزراء ایک دوسرے پر ملبہ ڈالیں گے یا پھر شوگر مل مالکان کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آئیں گے لیکن اس وقت کچھ نہیں ہو سکے گا۔۔جو اعداد و شمار ہم نے ابتدا میں آپ کے سامنے رکھے ہیں یہ مستند ہیں اور ان میں ذرہ برابر بھی غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر ہم ان اعداد و شمار سے تھوڑا ہٹ بھی جائیں اور مختلف تجربات کی روشنی میں

دیکھیں تو تھوڑی کمی بیشی کر کے بھی دیکھ لیں یعنی ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ماہانہ ساڑھے چار لاکھ میٹرک ٹن استعمال ہوتی ہے اور ہمارے پاس بارہ سارھے بارہ لاکھ میٹرک ٹن موجود ہے اور شوگر انڈسٹری کی طرف سے چینی کی مارکیٹ میں فراہمی میں سستی بھی آتی ہے تو قیمتوں کو بڑھنے سے کوئی روک نہیں سکے گا۔ ہر قسم کے اعدادوشمار کو جیسے مرضی گھما لیں جتنی چینی ملک میں موجود ہے ستمبر کے آخر تک ذخائر ختم ہو جائیں گے اور پھر کوئی فوری حل ممکن نہیں ہو گا۔ اب یہ سارا بوجھ حکومت پر ہے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدہ گفتگو کرے اور بہتر فیصلوں کی طرف بڑھے ہم ماضی میں بھی اس حوالے سے حکومت کو بروقت آگاہ کرتے رہے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کو چینی کی امپورٹ کا مشورہ دے دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی اعدادوشمار کے جادوگر اور خود ساختہ ارسطو اس ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ اگر حکومت بروقت بہتر فیصلے کرتی ہے تو اسے آئندہ سال کے لیے اہنے اعداد و شمار پر بہتر انداز میں کام کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ رواں مالی سال میں مہنگائی گذشتہ برس سے زیادہ بڑھے گی۔ شوگر ملوں کے خلاف حکومت نے بغیر کسی حکمت عملی کے جو قدم اٹھایا تھا اس کا سارا بوجھ عوام پر ہی آیا ہے۔ مل مالکان کی تو دو دو ملیں اور لگ گئی ہونگی لیکن وزراء کی اس نااہلی کا سارا بوجھ عام آدمی کو ہی اٹھانا پڑا ہے۔چینی کے بعد دوسرا مسئلہ آٹے کی فراہمی اور قیمت کو قابو میں رکھنا ہے یہاں بھی حکغ مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے عام آدمی کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ آٹے کا بیس کلو کا تھیلا چودہ سو روپے تک فروخت ہو گا اور حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی پلان بی نہیں ہے بلکہ حکومت کو اس کا کچھ اندازہ ہی نہیں ہے کہ اس مسئلے سے کیسے نمٹنا ہے۔ آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ چینی سے بھی زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہے لیکن قیمت میں مسلسل اضافے کے باوجود حکومت اس مسئلے کے بہتر حل میں ناکام ہے۔ بدقسمتی سے یہ دونوں چیزیں ہماری اپنی پیداوار ہیں اور ہم اپنی پیداوار کو ہی استعمال نہ کر سکیں اور اسے عوام کے لیے فائدہ مند نہ بنا سکیں تو پھر تبدیلی کے لیے ووٹ دینے والے کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...