بھارت کے خطے پر راج کے خواب چکنا چور۔۔ عاصم سلیم باجوہ نے ایسی خبر دے دی کہ پاکستانیوں کے دل باغ باغ ہو گئے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔عاصم سلیم باجوہ چند دنوں بعد کوئی ایسی خبر سناتے ہیں کہ دل باغ باغ ہو جاتا ہے، وہ اس خبر کے ذریعے دشمن کے سینے پر مونگ بھی دلتے ہیں۔ جیسے جیسے سی پیک کے منصوبے مکمل ہو رہے ہیں

یا پھر نئے منصوبوں کا آغاز ہو رہا ہے ہمارا دشمن بھارت مزید پریشان ہو رہا ہے۔ ندامت اور رسوائی کے باوجود بھارتی بونے سی پیک کیخلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔اس نازیبا مہم میں بھارتی صحافی اور کچھ سابق فوجی افسران شریک ہیں لیکن یہاں ایک بات اور بتاتا چلوں کہ بھارت کے کچھ سابق جرنیل اپنی فوج کی کمزوریوں کو حال ہی میں سامنے لائے ہیں جس سے یقیناً بھارت کی سبکی ہوئی ہے۔چابہار ہاتھ سے گیا، ریلوے اور گیس منصوبے سے بھی ایران نے بھارت کو نکال دیا۔بحری راستوں پر راج کا بھارتی خواب چکنا چور ہو گیا ہے چونکہ سری لنکا میں کولمبو اور ہربن ٹوٹا کی بندرگاہیں چین کے پاس ہیں، میانمر کی بندرگاہ بھی چین کے پاس ہے اور سائوتھ چائنہ سی پر تو ویسے ہی چینی راج ہے کیونکہ یہاں چین نے بہت سے مصنوعی جزیرے بنا کر شاندار میزائل سسٹم نصب کر رکھا ہے۔ نیپال ڈٹ کے کھڑا ہے، وہ بھارت کو خاطر ہی میں نہیں لا رہا۔بنگلہ دیش میں بھی بھارت کو ذلت و رسوائی کا سامنا ہے ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمشنر پچھلے چار ماہ سے کوشش کر رہے ہیں کہ بنگلہ دیشی وزیراعظم انہیں دومنٹ کیلئے ملاقات کا وقت دے دیں مگر انہیں مسلسل ناکامی ہو رہی ہے، بھارت بنگلہ دیش سرحد کے قریب بنگلہ دیش نے ایک وسیع وعریض ایئر پورٹ کا ٹھیکہ چین کو دے دیا ہے، لداخ میں کیا مات ہوئی ہر طرف مات ہی مات ہے۔اس مہم میں شریک ایک سابق بھارتی جرنیل نے تو پتہ نہیں چین اور پاکستان کے خلاف اتنا زہر کیوں اگلا ہے۔ ریٹائرڈ جنرل پی سی کٹوچ بھارتی فوج کے انفارمیشن سسٹم کے ڈی جی رہ چکے ہیں۔

انکے بقول بھارت کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت بھی بدنیتی پر مبنی تھی۔ دراصل یہ طالبان کے دوست چین اور پاکستان کی مشترکہ بدنیتی تھی تاکہ بھارت کو پھنسایا جا سکے۔ ممکن ہے جنرل کٹوچ کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ بھارت سی پیک میں شامل نہ ہو کر بری طرح پھنس چکا ہے۔جس امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی پر را نے بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلنا چاہی تھی اب وہ دونوں بھی بری طرح پھنس چکے ہیں۔ امریکہ تو بھارت کو مزید پھنساتا جا رہا ہے، چینی مصنوعات کا بائیکاٹ بھارت کی معیشت کو برباد کر دے گا اسی طرح اگر لداخ سیکٹر میں چینی فوج بیٹھی رہتی ہے تو بھارت کو کئی پوسٹوں پر فوجی اور چیزیں پہنچانے کیلئے فی فوجی پچیس لاکھ روپیہ خرچ کرنا پڑے گا جو بھارت کیلئے بہت مشکل ہے۔بھارت کی پروپیگنڈہ مہم نے خاص طور پر بلوچستان کے لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی کہ چین گوادر پر قابض ہو جائے گا، اسی طرح کچھ اور پاکستانیوں کو اکسانے کا عمل جاری ہے مگر شاید قسمت بھارت سے ناراض ہے کیونکہ جس امریکہ نے پاکستان کی امداد معطل کی تھی اسی نے امداد کی بحالی کیلئے کانگریس میں بل بھیج دیا ہے۔امریکہ ایک طرف بھارت سے چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کروا رہا ہے تو دوسری طرف اسے ڈرا رہا ہے کہ سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور بھارت میں نصب ہونے والے تمام کیمرے ایک چینی کمپنی کے ہیں اور چین کی یہ کمپنی چینی فوج کی ہے۔ امریکی وزیردفاع بھی نومبر میں چین کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔عاصم سلیم باجوہ نےتازہ خبر یہ سنائی ہے کہ مانسہرہ تھاکوٹ شاہراہ تیار ہو گئی ہے، اس سڑک کے دلفریب نظارے، کشش کی جھولیاں پھیلائے کھڑے ہیں، حسن میں بل کھاتی یہ سڑک آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے، حکومت پاکستان نے تعمیراتی صنعت کو بہت سی مراعات دے کر لانچ کر دیا ہے۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ بھارت سے برداشت نہیں ہوتا، وہ کبھی یہ کہہ کر اکساتا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری گئی۔کبھی چین کے دفاع کی مضبوطی کی بات کرتا ہے اور کبھی دنیا کو پاکستان اور چین سے ڈراتا ہے۔ ندامت، رسوائی اور ذلت کے ماحول میں مودی پانچ اگست کو بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھنے جا رہا ہے، پانچ اگست سے ہمیں کشمیر کی یاد تڑپاتی ہے، کشمیر آزاد ہوگا مگر ہمارے کچھ لبرلز اور مامےقدیر کے مامے چاچے بھارتی پروپیگنڈہ مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کیلئے فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب خان نے کہا ہے کہ ؎عشق میں بے رخی کے زینوں سے۔۔سانپ نکلیں گے آستینوں سے

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...