- Advertisement -

روپے کی قدر میں مزید کمی کے بعد ڈالر 210 روپے کا ہو گیا

- Advertisement -

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں تاخیر کے سبب بدھ کو انٹربینک ٹریڈ کے دوران ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 2 روپے سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی قدر میں 2.09 روپے کی کمی ہوئی اور وہ 210 روپے پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ جمعرات کو کاروباری ہفتے کے آخری دن ڈالر 207.91 روپے پر بند ہوا تھا۔
کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے لیکن 23 جون کو چین سے 2.3 ارب ڈالر کی آمد نے منظر نامہ بدل دیا کیونکہ روپیہ ایک ہی سیشن میں 4.70 روپے بحالی کے بعد 211.93 روپے سے 207.23 روپے تک پہنچ گیا تھا۔
تاہم امریکی ڈالر نے روپے کی بڑھتی ہوئی قدر کے سلسلے کو روک دیا اور 5 جولائی کو انٹربینک مارکیٹ میں 2.38 روپے کا اضافہ ہوا، جو کہ نئے مالی سال میں پہلا اضافہ تھا اور اس کے بعد سے ڈالر کی قدر میں اضافہ جاری ہے.
ویب پر مبنی مالیاتی ڈیٹا اور تجزیاتی پورٹل میٹیس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے نوٹ کیا کہ مارکیٹ پانچ دن کے بعد دوبارہ کھل گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترسیلات زر کی آمد توقع کے مطابق زیادہ نہیں جس کی وجہ سے اس وقت روپیہ دباؤ میں ہے، یہ دباؤ اس وقت تک رہے گا جب تک آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔
تجزیہ کار کومل منصور نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی بیرون ملک سے آمد محدود تھی اور آج ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ یہ خوف تھا کہ شائد آئی ایم ایف کا معاہدہ جلد کسی بھی وقت پورا نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قرض دہندہ کی طرف سے مانگی گئی قرض سے قبل کیے جانے والے اقدامات کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ بے قابو ہوتی جا رہی ہے، تجزیہ کار اس سال دیوالیے پن کا اندیشہ ظاہر کررہے ہیں۔
دوسری جانب ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچہ نے روپے کی گراوٹ کی وجہ مرکزی بینک کی جانب سے درآمدات کے لیے ادائیگیوں کی اجازت کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ انٹربینک میں ڈالر کی مانگ بہت زیادہ تھی کیونکہ اسٹیٹ بینک نے ان درآمدی ادائیگیوں کی اجازت دی تھی جو واجب الادا تھیں۔
انہوں نے روپے کی گراوٹ کی وجہ آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیر کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ کو کوئی امید نہیں کہ رقم جلد ہی کسی بھی وقت موصول ہو جائے گی کیونکہ ہر روز نئے مطالبات سامنے آتے جا رہے ہیں۔
ٖظفر راچہ نے کہا کہ وزرا کے بیانات سے بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے تھک چکے ہیں، یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں ہے اور سیاسی صورتحال معیشت کے لیے بہت اچھی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہمیں آئی ایم ایف یا دوست ممالک سے بڑی رقم نہیں ملتی، صورتحال بہتر نہیں ہوگی، پہلے جو تاثر دیا گیا تھا کہ ہمیں آئی ایم ایف سے رقم مل جائے گی، اس کے برعکس ہوا ہے۔