جاوید چوہدری اور جاوید غامدی کی باریک واردات

میرے ایک منہ بولے چچا جان ہیں مجھے اپنی جان سے پیارے ہیں. مجھے بہت ہی عزیز ہیں.. ساری دنیا میں صرف مجھے اپنے چچا سے ہی محبت ھے.. میں روزانہ صبح اٹھتا ھوں ان کا دیدار کرنے ان کے گھر جاتا ہوں ان سے مل کر مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے میرا آج کا دن بہت اچھا گزرے گا.. لیکن میرے چچا جان (معذرت کے ساتھ) بہت بڑے کمینے ہیں، بات بات پر جھوٹ بولنا ان کی عادت ھے بے ایمانی، لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی ان کی فطرت ھے. وہ انتہائی لالچی ہیں. کمینہ پن اس قدر ھے کہ ھر کسی کی بہو بیٹی کو میلی آنکھ سے دیکھتے ہیں. لین دین کے معاملے میں ان کا ریکارڈ بہت زیادہ خراب ہے. جس سے وعدہ کرتے ہیں کبھی پورا نہیں کرتے. شراب جوا زنا سٹے بازی اور دیگر منشیات ان کا شوق ہے.. میرے چچا مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ اچھے لگتے ہیں میرا دل چاھتا ھے کہ میں ھر وقت ان کے پاس بیٹھا رہوں…
آپ کنفیوز ھو گئے نا؟..

یہی وہ باریک واردات ھے جس کے حوالے سے میں نے تحریر کا آغاز کیا ھے… شاید اس واردات کے متعلق منافقت کا لفظ ناکافی ھے… میں اس تحریر میں ایک چچا جان کی اس طریقے سے بینڈ بجائی ھے کہ اب وہ لاکھ صفائی دیتے رہیں ان کی کوئی نہیں سنے گا بلکہ میں نے جو زھن سازی کی ھے لوگ اسی کے انداز میں سوچیں گے..

میں نے جس انداز سے تحریر کا آغاز چچا جان کی محبت سے کیا تھا اس کے بعد کوئی وجہ ہی نہیں رہ جاتی کہ چچا کے متعلق بھتیجے کی کسی بات کا یقین نہ کیا جائے.. ھر شخص فوراً اس لیے یقین کر لے گا کیونکہ تعریفیں کرکے میں نے زھر کے اوپر مٹھائی کی تہہ چڑھا لی تھی…

یہ باریک واردات آج سے جاری نہیں ھے. بلکہ کئی سو سال پہلے ھر اسلام دشمن سمجھ گیا تھا کہ اگر بہترین طریقے سے اور کامیابی کے ساتھ اسلام دشمنی کرنی ہے تو اس کے لیے صرف زہر آلود مٹھائی کا طریقہ ہی درست رہے گا.. مسلمان بہت معصوم ھے بہت سادہ ھے اگر ڈائریکٹ اس کے دین کی توہین کی جائے تو بھڑک اٹھتا ھے بات سننے سے انکار کر دیتا ھے.. بات سننے سے انکار کر دیتا ہے مجھے یہ یہ جملہ تکرار کے ساتھ اس لیے لکھنا پڑا کیونکہ یہ بہت بڑی سچائی ھے… چنانچہ ھماری چودہ سو سال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے اسلام کا سب سے بڑا نقصان مسلمانوں کے بھیس میں چھپے ہوئے اسلام دشمنوں نے ہی کیا ھے..

میں ایک صحافی جاوید چوھدری کو عینک والا جن کے نام سے پکارتا ھوں. یہ عینک والا جن بڑا کمال کا ھے.. اس نے ملک ریاض بحریہ والے کے نام سے کالم لکھ لکھ کر اس سے کروڑوں روپے کمائے ہیں.. یہ کرپٹ سیاستدانوں کا اس زبردست طریقے سے دفاع کرتا ہے کہ کھرب پتی سیاستدان جو پہلے اپنی نظروں میں اپنے کرتوتوں کی وجہ سے گر چکا ھوتا اس کا کالم پڑھ کر خود کو ولی پیغمبر سمجھنے لگتا ھے یہ عینک والا جن بھی بڑی باریک واردات کرتا ھے.. ٹی وی پر اپنا پروگرام درود شریف سے شروع کرتا ہے اور پھر اس کے بعد یہ بدترین شیطان بن جاتا ھے درود شریف پڑھنے کے فوراً بعد کرپٹ مافیا کی حمایت اور اسلام اور پاکستان کی دشمنی شروع کر دیتا ہے….
یہ بھی باریک وارداتیہ ہے…

غامدی کا کوئی بھی ٹی وی پروگرام یوٹیوب سے تلاش کر لیجیے.. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جتنی بار بھی نام لے گا ھر بار صلی اللہ علیہ والہ وسلم ضرور کہے گا بہت ہی ادب سے اسی طرح ذکر کرے گا جیسے میں نے اپنے چچا جان کا اوپر ذکر کیا ھے اس کے بعد قرآن اور حدیث کو جھٹلانا شروع کر دے گا.. ایسے وارداتیے ابوجہل سے بڑے اسلام کے دشمن ہیں وہ بھی قرآن پاک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتوں کو جھٹلاتا تھا لیکن وہ منافق نہیں تھا صرف کافر تھا یہ بدبخت کافر بھی ہیں اور منافق بھی ہیں… آپ کسی بھی اسلام دشمن کو دیکھ لیجیے چاھے اس کا تعلق ٹی وی چینلز سے ھو چاھے وہ کالم نگار ھو چاھے وہ سوشل میڈیا پر ایکٹو ھو وہ اسی باریک واردات کے ذریعے کام دکھائے گا.. آپ کاری ھنیف ڈالر کو دیکھ لیجیے کسی فیک بابے کو دیکھ لیجیے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام بہت ادب سے لے گا لیکن اسلام دشمنی میں احادیث جھٹلانے میں اور قرآن پاک کا غلط ترجمہ کرنے میں کٹر کافروں سے بھی زیادہ آگے چلا جائے گا لیکن کیوں کہ اس کا حلیہ مسلمانوں جیسا اور مٹھائی میں زھر چھپا کر کھلانے والا طریقہ استعمال کرتا ہے اس لیے لوگ آسانی سے وہ زھر اپنے اندر اتار لیتے ہیں…
آج ایک بہنا نے مجھ سے عینک والے جن کا ایک کالم شیئر کیا. اگر اس پورے کالم کو ایک جملے میں لکھنا ھو تو وہ جملہ یہ ھوگا..
مسجد اقصٰی یہودیوں کی ھے مسلمانوں کو چاہیے اسے یہودیوں کے حوالے کر دیں…

وہ مسجد اقصٰی، بیت المقدس جسے مسلمانوں نے جان پر کھیل کر آزاد کروایا جس کے لیے صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی ساری زندگی گھوڑے کی پیٹھ پر گزار دی. وہ مسجد اقصٰی جس کا ذکر قرآن پاک میں ایک معجزے کے طور پر ھے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے امامت فرما کر مہر لگا دی کہ یہ مسلمانوں کی انتہائی مقدس جگہ کی حیثیت رکھتی ھے یہ چند عینک والے جن کاری بابے شابے اور غامدی چاھتے ہیں کہ اس پر یہودیوں کا حق تسلیم کر لیا جائے… خاموشی سے اور آرام سے یہودیوں کو دے دیا جائے… یہ اپنے چند ٹکے جو یہودیوں کی طرف سے ملتے ہیں ان کو حلال کرنے کے لیے تاریخ کو توڑ موڑ کر پیش کر رہے ہیں. آپ کو یہ بات شاید ھضم نہیں ھوگی کہ ھمارے میڈیا کو یہودی کنٹرول کر رہے ہیں تو اس حوالے سے کی جانے والی فنڈنگ کی خبر گوگل پر تلاش کر لیجیے اگر نہ ملے تو مجھے کہیں میں آپ کو تلاش کر دوں گا کہ پاکستانی میڈیا کو کروڑوں اربوں ڈالر کیسے دیے جاتے ہیں… پورے پاکستانی میڈیا کو اس کام پر لگا دیا گیا ہے کہ مسجد اقصٰی کا اسٹیٹس تبدیل کرنے کے لیے یہودیوں کا ساتھ دیں…

آپ ان کی بیتابیاں دیکھیے. یہ اس وقت یہودیوں سے بھی زیادہ پریشان اور بیتاب نظر آتے ہیں. مسجد اقصٰی کو یہودیوں کے حوالے کرنے کے لیے مر رہے ہیں.. اپنی تحریروں کالمز اور پروگراموں میں صرف اسی موضوع پر مسلسل بھونک رہے ہیں. یہ باریک وارداتیے سوشل میڈیا سے شروع ہو کر اب اخبارات اور ٹی وی چینلز پر بھی شروع ھونے جا رہے ہیں… یقین کیجیے میں ویسے تو عقل سے پیدل ھوں لیکن کچھ معاملات اللہ پاک کی ذات راھنمائی فرما دیتا ھے راستہ دکھا دیتا ھے میں نے پہلی بار مسجد اقصٰی کی گردوغبار والی پکچر جب لگائی تو خود مجھے بھی نہیں پتہ تھا کہ پاکستان کے اندر اس قدر شدید طوفان اٹھا دیا جائے گا کہ ھر طرف صرف ایک ہی موضوع زیر بحث ھوگا…

ھم سب کو اس طوفان کے آگے بند باندھنا ھے.. جس مسجد کو ھمارے بڑوں نے شہادتیں پیش کرکے واپس لیا.. جس کی خاطر ستر سال سے مظلوم فلسطینی جانیں قربان کر رہے ہیں کیسے…. کیسے کچھ باریک وارداتیوں کی خواھش پر اسے یہودیوں کے حوالے کر دیا جائے؟
ھم اپنے خون کے آخری قطرے تک اس کی حفاظت کریں گے ان شا اللہ تعالیٰ…
مجنوں

تبصرے
Loading...