ہزاروں کم عمر دلہنوں کے شوہروں لیے امریکی ویزوں کی منظوری

گزشتہ برسوں میں امریکی حکام نے ہزاروں کم عمر دلہنوں کے بڑی عمر کے شوہروں کی درخواستوں کی منظوری دی۔ ایسی دلہنوں میں پاکستانی لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ ان کم عمر لڑکیوں کی شادیوں پر جلد پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔

ایسی دلہنوں کی امریکا آمد کو قانونی طور پر جائز اور ضابطہٴ قانون کے تحت قرار دیا گیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ امریکی امیگریشن اور شہریت ایکٹ میں اس تناظر میں شادی کے لیے کم سے کم عمر کی حد مقرر نہیں ہے۔ اس حوالے سے جمع کی جانے والی درخواستوں میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا شادی جائز طریقے سے کی گئی ہے۔ اس میں دلہن کے ملک کے قانون کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم عمر دلہن کے امریکا میں اسٹیٹس کو بھی خاص طور پر پرکھا جاتا ہے۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو کم عمر دلہنوں کے اعداد و شمار دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ ان اعداد و شمار سے ایسے سوال ابھرے ہیں کہ ان شادیوں میں کہیں جبر کا عنصر تو پایا نہیں جاتا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکا میں بالغ اور کم عمر لڑکی سے شادی عام نہیں ہے۔ بعض امریکی ریاستوں نے ایسی شادیوں پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔

بالغ افراد کی جانب سے اپنی کم عمر جیون ساتھیوں یا منگیتروں کو امریکا لانے کے لیے اس وقت کم از کم پانچ ہزار درخواستیں جمع کرائی جا چکی ہیں۔ ان میں سے تقریباً تین ہزار درخواستیں کم عمر دلہنوں کی جانب سے جمع کرائی گئی ہیں، جو بڑی عمر کے اپنے شوہروں کو امریکا بلانا چاہتی ہیں۔ یہ تفصیلات سینیٹ کی داخلی سلامتی کی کمیٹی نے سن 2017 میں طلب کی تھی۔

اس حوالے سے دوہری شہریت کی حامل پاکستان سے تعلق رکھنے والی نیویارک سٹی کی ایک لڑکی نائلہ امین کا کہنا ہے،’’ میرے امریکی پاسپورٹ نے میری زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔‘‘ نائلہ کی شادی تیرہ برس کی عمر میں اُس کے چھبیس سالہ کزن سے کر دی گئی تھی۔ اس شادی کے بعد اُسے اپنے شوہر کو امریکا بلانے کے کاغذات جمع کرانے پڑے تھے۔ نائلہ امین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں لوگ امریکا جانے کے لیے تڑپ رہے ہیں۔

اس مناسبت سے نائلہ امین نے سوالات اٹھائے ہیں کہ وہ تو بچپن کی عمر میں تھی لیکن امریکی حکام نے اُس کے شوہر کو امریکا لانے کی درخواست پر سوال کیوں نہیں اٹھائے تھے۔ اس درخواست پر کی جانے والی کارروائی کے دوران کسی قسم کی پوچھ گچھ نہیں کی گئی بلکہ سوچنے بھی گوارا نہیں کیا گیا۔

سن 2007 سے سن 2017 تک امریکی حکام نے ساڑھے پانچ ہزار سے زائد ایسی درخواستوں کی منظوری دی، جس کے تحت کم عمر درخواست دہندہ اپنے سے بڑی عمر کے جیون ساتھی کو امریکا لانے کا اہل ہوا۔ ان میں 204 تو بہت ہی کم عمر درخواست گزار تھے۔ ان تمام درخواستوں میں لڑکیاں ہی کم عمر ہیں اور اُن کے شوہر بڑی عمر کے ہیں۔ امریکا میں شادی کی عمر بظاہر اٹھارہ برس مقرر ہے۔

امریکی سینیٹ کی داخلی سلامتی کی کمیٹی کے چیئرمین ری پبلکن سینیٹر رون جانسن نے واضح کیا ہے کہ اس طریقہٴ کار میں خامی ہے اور اُسی کا فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جلد ہی خامی کا ازالہ کر دیا جائے گا اور یہ سلسلہ بھی ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے گا۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں