سعودی عرب اور ترکی کو جرمن اسلحے کی فروخت میں اضافہ

جرمنی میں داخلی سطح پر سخت مخالفت کے باوجود سعودی عرب اور ترکی کو جرمن اسحلے کی فروخت ميں گزشتہ برس اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات جرمن وزارت برائے اقتصادی امور کی طرف سے ملکی پارليمان ميں پیش کردہ ایک رپورٹ سے معلوم ہوئی۔

جرمنی کی وزارت برائے معاشی امور کے مطابق سال 2018ء کے دوران جرمن کمپنيوں نے سعودی عرب کو 160 ملین یورو کا اسلحہ فروخت کیا، جو سال 2017ء کے مقابلے 50 ملین یورو زائد ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں برلن حکومت نے سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ فیصلہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کے بعد کیا گیا۔

سعودی عرب نو ممالک پر مبنی اس اتحاد کی بھی سربراہی کر رہا ہے جو یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔ یمن میں جاری اس جنگ کے سبب سعودی عرب کو عالمی سطح پر بھی دباؤ کا سامنا ہے۔

جرمن پارلیمان میں وزارت برائے اقتصادی امور کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2018ء کے دوران ترکی کو اسلحے کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس انقرہ کو فراہم کيے گئے اسلحے کی ماليت دو سو دو ملين يورو کے لگ بھگ رہی۔ سال 2017ء میں ترکی کو فروخت کيے گئے اسلحے کی ماليت 62 ملین یورو تھی۔ ترکی کو فروخت کیا جانے والا اسلحہ بحری ضروریات کے لیے تھا۔

جرمن پارلیمان کے سامنے یہ معلومات بائيں بازو کی سياسی جماعت ’ڈی لنکے‘ سے تعلق رکھنے والی رُکن پارلیمان سیویم ڈیگڈیلن کی طرف سے جمع کرائے گئے ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں فراہم کی گئیں۔ اس جماعت نے الزام عائد کیا ہے کہ اسلحہ تیار کرنے والی جرمن کمپنیان یمن کی ’مجرمانہ‘ جنگ سے پیسہ بنانے میں مصروف ہیں۔ ڈیگڈیلن نے مطالبہ کیا کہ چانسلر انگیلا میرکل کی اتحادی حکومت کو سعودی عرب اور ترکی کو اسلحے کی فروخت روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں