14 جنوری کو قوم کو کیا تحفہ دینے والے ہیں؟ چیف جسٹس نے اعلان کر دیا

"لاہور (ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت تمام ریفرنسز نمٹا دیئے ہیں۔ صرف دو ریفرنسز زیر التواء ہیں، ریفرنسز کو ججز کے گلے کا پھندا نہیں بننے دیں گے اور ججز کو بلیک میل ہونے دیا جائے گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم اپنا احتساب کر رہے ہیں، 14 جنوری کو پولیس ریفارمز کی صورت میں قوم کو تحفہ دے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ جلد انصاف نہ ملنے کے باعث عدلیہ کا احترام کچھ کم ہوا ہے۔

جس معاشرے میں انصاف نہ ہو وہ قائم نہیں رہ سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے اپنے اعزاز میں دی گئی الوداعی تقریب میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کے باعث مداخلت کی اور کوشش کی ہے کہ سائلین کو زیادہ سہولیات دی جائیں اور ان کے لئے وسائل پیدا کئے جائیں ہم کسی کے کام میں مداخلت نہیں کی۔

ہم نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن کسی کی تذلیل کرنا مقصد نہیں تھا ہم نے رول آف لاء کے لئے کوشش کی ہے۔ جوڈیششل ایکٹوزم کی بنیاد نیک نیتی سے رکھی گئی، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہائی کورٹ اور ماتحت عدلیہ کو 22-A نے یرغمال بنا لیا ہے، مقدمات کے اندراج کے لئے احکامات دینا ہائی کورٹ کا کام نہیں، 14 جنوری کو پولیس ریفارمز کا تحفہ عوام کو دیں گے جس کے بعد 22-A کی مشکلات دور ہو جائیں گی۔
: چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میں زندگی میں بہت کم رویا ہوں، آج آپ کے پیار نے میری آنکھیں نم کردیں۔ میں اپنے گھر پر رہا اور آج بھی اپنے گھر پر ہوں۔ میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں جس کی ہائیکورٹ سے نسبت سب سے پرانی ہے۔ میں کیتھڈرل سکول پڑھتا تھا اور والد یہاں پریکٹس کرتے تھے۔ ان کوریڈور میں کھیلتا تھا اور میری وابستگی چھپن سال کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محمود علی قصوری کی آواز میں آئینی درخواستیں بھی سنی ہیں۔یہ بلڈنگ اسی طرح موجود ہی. پہلے جج بھی بڑے تھے او ر وکیل بھی بڑے تھے۔ اس ادارے کا جو مقام پہلے دیکھا ہے وہ آج نہیں ہے۔ اس کی وجہ لوگوں کو بروقت انصاف نہ ملنا ہے۔ پہلے ججز خود کو پیڈ ہالیڈے پر نہیں سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایمانداری سے کہتا ہوں کہ اس ملک سے محبت، ادارے سے محبت اور محنت کی وجہ اس مقام پر ہوں۔

پاکستان ملین ٹائم آزادی کے برابر ہے۔ یہاں ایک منصف معاشرہ قائم ہونا چاہیے جس معاشرے میں انصاف نہیں وہ قائم نہیں رہ سکتا۔ میں نے ساری زندگی بطور قاضی یہ کوشش ہے کہ میں انصاف دے سکوں۔ ججز کے عہدے کو نوکری سمجھ کر نہ کریں یہ جذبہ ہے اور فرض ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ وہ لوگ بھی دیکھے ہیں جن کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ دوائی بھی خرید سکیں۔

یہ وہ جوڈیشل ایکٹوزم کی بنیاد رکھی ہے جو نیک نیتی پر ہے۔ میری کبھی بھی یہ خواہش نہیں. رہی کہ کسی کے اختیارات میں مداخلت کروں۔ اگر کسی ہسپتال چلے گئے تو کیا کہنے گئے ہیں یہی کہ یہاں بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ مجھ سے کئی غلطیاں ہوئی ہونگی لیکن یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ دانستہ نہیں تھی۔ نامزد چیف جسٹس کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ انصاف فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کبھی غیر ضروری طور پر کیس ملتوی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اس ادارے کا لازم ملزوم حصہ ہیں ۔ آپ کو محنت کرکے اوتھ کمشنر نہیں، بننا بلکہ اعلیٰ صف کا وکیل بننا ہے۔ آج اس عدالت کو بائیس اے نے یرغمال بنا لیا ہے۔ پاکستان بار کونسل پنجاب بار کونسل اپنا گھر خود ٹھیک کریں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وکلاکو محنت کرنا ہو گی ، وکلا نے حق کے لیے اپنے مقدمات لڑنے ہیں ۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان نے عوامی مسائل کے حل جمہوری حکومت اور پارلیمنٹ کی مضبوطی کیلئے جو کام کیا اس سے عدلیہ کی توقیر میں اضافہ ہوا ہے جو مقام پیلے دیکھا ہے اس ادارے کا وہ آج نہیں ہے۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ سردار شمیم احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا ممنون ہوں جنہوں نے اس تقریب کا اہتمام کیا۔

چیف جسٹس پاکستان کے بارے بیان کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ میں اور میرے صوبے کی عدلیہ دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے جس طرح عام آدمی کی بنیادی حقوق پر توجہ دی، ہسپتال ہو یا صاف پانی. یا زمین پر قبضہ کا مسئلہ ہر کسی کو ریلیف فراہم کیا۔ اس طرح لوگوں کا انصاف پر اعتبار پیدا ہوا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ ڈیم فنڈ تھریک کی عدلیہ میں بہلے مثال نہیں ملتی۔پاکستان اور بیرون ممالک سے پاکستانیوں نے ڈیم فنڈ کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا ۔ ڈیم فنڈ میں جمع ہونے والا روپیہ قوم کی امانت ہے۔ نامزد چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دس ہزار فوجداری مقدمات کا فیصلہ کرکے رکارڈ قائم کیا۔نامزد چیف جسٹس کی کتاب میں کیس ملتوی کرنا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سائلین کے وسائل کو سر فہرست رکھنا چاہیے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے انصاف کی فراہمی میں جتنا کردار جج کا ہے اتنا ہی وکیل کا بھی ہے عمر قید کی سزا پانیوالوں کی کیلئے اگلے ہفتے بنچ تشکیل دیا جائے گا۔ بار اور بنچ کے تعاون سے ہی نظام انصاف چل سکتا ہے ۔ بطور جج انصاف کرنا ہمارا فرض ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں