نیپالی وزیر خارجہ کا سارک سربراہی اجلاس کے انعقاد کیلئے بھارت پر زور

نیپال نے ساؤتھ ایشین ایسوسی ایشن ریجنل کووآپریشن (سارک) کے اجلاس کے انعقاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور گروپ کو مل کر خطے کو درپیش دہشت گردی سمیت دیگر چیلنجز سے نمٹنا چاہیے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق نیپالی وزیر خارجہ پردیپ کمار گیاوالی نے گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جانگ ان کے درمیان سنگاپور میں ہونے والی تاریخی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف مذاکرات ہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے اختلافات دور کیے جاسکتے ہیں۔

صحافیوں اور امورِ خارجہ کے ماہرین سے ملاقات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے کم جونگ ملاقات کر سکتے ہیں تو دیگر ممالک کے رہنما کیوں نہیں ملِ سکتے؟

واضح رہے کہ سارک سربراہی اجلاس اب پاکستان میں منعقد ہونا ہے، تاہم بھارت کی جانب سے اسلام آباد پر سرحد پار دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے اس کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔

خیال رہے کہ 2016 میں سارک اجلاس اسلام آباد میں ہونے والا تھا لیکن بھارت نے جموں کشمیر میں فوجی کیمپ پر ہونے والے ہولناک حملے کو جواز بنا کر شرکت سے انکار کردیا۔

بعدازاں بنگلہ دیش، بھوٹان، اور افغانستان نے بھی اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا جس کے باعث اجلاس منسوخ کردیا گیا، واضح رہے کہ مالدیپ اور سری لنکا اس تنظیم کے ساتویں اور آٹھویں اراکین ہیں۔

نیپالی وزیر خارجہ نے کہا کہ’ بیٹھ کر بات چیت کے ذریعےاختلافات کا حل نکالنے کا کوئی متبادل نہیں ، خطے میں ہم جن مسائل کا سامنا کررہے ہیں انہیں اکیلے حل کرنا ممکن نہیں ،ہمیں دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر اہم چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی‘۔

نیپالی وزیر خارجہ نے ایک روز قبل بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج سے بھی ملاقات کی تھی جس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ نیپال نے سارک سربراہی اجلاس کا معاملہ بھارت کے سامنے اٹھایا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اجلاس کا انعقاد جلد ہوگا۔

خیال رہے کہ سارک سربراہی اجلاس کا انعقاد ہر دو سال کے بعد کیا جاتا ہے اور حروفِ تہجی کے اعتبار سے رکن ممالک اس کی میزبانی کرتے ہیں، جو ملک میزبانی کرتا ہے وہ ایسو سی ایشن کی سربراہی سنبھال لیتا ہے۔

اس سلسلے میں آخری اجلاس 2014 میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ہوا تھا جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی شرکت کی تھی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں