عامر خان اور ٹرینس کرافورڈ کی اگلی فائیٹ بیس اپریل کو امریکہ میں متوقع

عامر خان اور ٹرینس کرافورڈ کی اگلی فائیٹ کی پریس کانفرنس پندرہ جنوری کو لندن میں ہوگی۔ بڑا مقابلہ بیس اپریل کو امریکہ میں متوقع ہے۔

میچ روم باکسنگ کمپنی سے کئے گئے معائدہ کی رو سے عامر خان کی اس فرم کے لئے تیسری اور آخری فائیٹ ہوگی جو کہ بیس اپریل کو امریکہ کے تین شہروں لاس ویگاس، نیواڈا یا پھر نیویارک میں ہونا متوقع ہے جس کے لئے پروموشن ایکٹوٹی پندرہ جنوری کو لندن میں ہونے والی پریس کانفرنس کے بعد شروع کردی جائے گی۔ میچ روم باکسنگ سے کئے گئے معائدہ کے مطابق عامر خان اس سے قبل فل لو گریکو اور سمیوئل ورگاس سے نبرد آزما ہوچکے ہیں جبکہ کمپنی اور شائقین باکسنگ اس تیسری فائیٹ کو عامر خان اور کیل بروک کے مابین دیکھنے کے خواہشمند تھے لیکن اس کے برعکس عامر خان نے کرافورڈ کا سامنا کرنا منتخب کیا۔

زرائع کے مطابق میچ روم کے مالک ایڈی ہیرن کی خواہش اس کے برعکس خان بمقابلہ بروکس ایونٹ تھا مگر عامر خان کے اس فیصلے کے بعد یہ بھی توقع کی جارہی ہے کہ کمپنی عامر خان کے ساتھ ایک نیا معائدہ بھی کرے گی جو کہ ایک یا پھر دوبارہ سے تین فائیٹس پر مبنی ہوگا اور جس کی رو سے خان اور بروکس کی فائیٹ لازمی طے کی جائے گی جس سے نا صرف شائقین کی دلچسپی بڑھے گی بلکہ دوسری جانب کمپنی کو سابق معائدے کی نسبت زیادہ منافع کمانے کا باعث بھی ہوگی۔

ایڈی ہیرن کے قریبی زرائع کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اس معائدہ کو کرنے کا بڑا مقصد ہی یہی تھا کہ خان اور بروکس کا مقابلہ طے کیا جائے لیکن خان کے کرافورڈ کو حریف منتخب کرنے کے باعث وہ مقصد پورا ہی نہیں ہوا۔ دوسری طرف ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک برطانوی باکسر کا امریکہ میں فائیٹ کرنا برطانوی شائقین کے لئے تو دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے لیکن امریکی شائقین کو اکھٹا کرنے کے لئے پروموشنل ایکٹویٹی کی ضرورت بھی ہوگی۔

دوسری طرف تکنیکی لحاظ سے دیھکتے ہوئے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ خان یہ فائیٹ اس صورت میں جیت سکتے ہیں کہ جلد از جلد کرافورڈ کو ناک آوٹ کرلیں اور اگر فائیٹ لمبی چلتی ہے یا پھر آخری راونڈ تک بھی چلی جاتی ہے تو پھر خان کو مشکل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ کنگ خان کے نام سے جانے والے عامر خان نے عالمی سطح پر باکسنگ کے رنگز میں حکومت کی ہوئی ہے اور بڑے بڑے ناموں کو شکست دوچار کیا ہوا ہے۔ بہرحال پندرہ جنوری کو لندن میں ہونے والی میڈیا ٹاک کے بعد ہی واضح ہوسکتا ہے کہ عامر خان اور کرافورڈ خود اس فائیٹ کے لئے کتنے پرجوش ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں