- Advertisement -

اسپیکر رولنگ ازخود نوٹس کیس؛ اسمبلی توڑنے سے اپوزیشن اورعوام کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوئے، سپریم کورٹ

- Advertisement -

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسپیکر رولنگ از خود نوٹس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، جسے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان کے گھر پر ہونے والے اجلاس میں 12 ججز نے از خود نوٹس کی سفارش کی اور پھر سپریم کورٹ نے آئین کو مقدم رکھنے اور اس کے تحفظ کیلئے اسپیکر روپنگ پر از خود نوٹس لیا۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کے غیر آئینی اقدام کی وجہ سے سپریم کورٹ متحرک ہوئی، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی وجہ سے وزیراعظم کی سفارش پر صدر مملکت نے اسمبلی توڑی جس پر اپوزیشن اور عوام کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوئے۔
تحریری فیصلے میں جسٹس عمر عطا بندیال نے لکھا کہ از خود نوٹس کی کاروائی کے دوران سائفر عدالت کو نہیں دکھایا گیا تاہم فریقین نے اس حوالے سے دلائل دیے اور عدالت کو بنیادی نکات (اجزا) سے آگاہ کیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سائفر کے حوالے نیشنل سیکورٹی کونسل کے اعلامیہ میں بیرونی مداخلت جانچنے کیلئے سائفر پر تحقیقات کا نہیں کہا گیا، سیکورٹی کونسل اعلامیے میں اپوزیشن جماعتوں کے بیرون طاقتوں کے ساتھ مل کر عدم اعتماد لانے کا ذکر بھی موجود نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے معزز ججز جسٹس مظرعالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اضافی نوٹ تحریر کیے۔