"ہمیں مشرف نہ دبا سکا تو جنرل باجوہ کس گمان میں ہے” غداری کا مقدمہ درج ہونے کے بعد ابصار عالم میدان میں آگئے

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کا کہنا ہے کہ ہمیں مشرف نہ دبا سکا تو جنرل باجوہ کس گمان میں ہے۔

اپنے خلاف غداری کا مقدمہ درج ہونے کے بعد رد عمل میں ابصار عالم نے کہا کہ ” ایسے غداری کے مُقدمے تو اعزاز ہیں ایک فسطائی نظام کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے۔ ہمیں تو مُشرف نہ دبا سکا تو میری جان، جنرل باجوہ، کس گُمان میں ہے، رسیداں کڈو۔”

ابصار عالم نے اپنے رد عمل کا اظہار ٹوئٹر پر کیا اور ساتھ ہی "باجوہ لیکس” کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی مراد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نہیں ہیں۔

ایک اور صحافی آصف بشیر چوہدری نے ابصار عالم کے خلاف درج ہونے والے مقدمے کے بارے میں بتایا کہ سابق چیئرمین پیمرا نے جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے اثاثے سامنے آنے کے بعد ٹویٹس کیے تھے لیکن ان کے خلاف مقدمے میں افواج پاکستان کے خلاف زبان استعمال کرنے کا الزام ہے۔

خیال رہے کہ ابصار عالم کے خلاف مقدمہ انصاف لائرز فورم کے صدر چوہدری نوید احمد ایڈووکیٹ کی مدعیت میں تھانہ دینہ میں درج کیا گیا ہے ۔ درخواست گزار نے ابصار عالم پر افواج پاکستان اور وزیر اعظم کے خلاف ٹویٹس کرنے کو بنیاد بنایا ہے اور ان کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی ہے۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ابصار عالم جو کہ سابقہ چیئرمین پیمرا ہے اور پیشہ صحافت سے منسلک ہے نے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر افواج پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف انتہائی گھٹیا لینگویج استعمال کی ہے جو کہ غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ ابصار عالم وطن عزیز کے سایہ میں رہتا ہے اور اسی وطن عزیز کی جڑوں کو دشمنوں کے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی غرض سے کھوکھلا کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ افواج پاکستان کو ہمیشہ سلامت تاقیامت رکھے۔

ابصار عالم کے خلاف آئین کی دفعات 124، 131، 499، 505 اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 20 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض دفعات ایسی ہیں جو جمعہ کے روز کراچی سے گرفتار ہونے والے صحافی بلال فاروقی کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں بھی شامل ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...