پیپلزپارٹی نے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی سزا کی مخالفت کردی

سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے سی سی پی او لاہور کی معافی کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے انہیں فوری عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کردیا جبکہ زیادتی کے واقعات میں ملوث ملزمان کو سرے عام پھانسی کی سزا دینے کے معاملہ پر سیاسی جماعتیں تقسیم دکھائی دیں ، پاکستان پیپلزپارٹ
ی نے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی سزا کی مخالفت کردی۔

منگل کو چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس میں سانحہ موٹروے پر تفصیلی بحث ہوئی جس میں اپوزیشن نے حکومت پر شدید تنقید کی ۔ مسلم لیگ (ن )کے سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ سانحہ موٹر وے کے مجرموں کو گرفتار کرنے کی بجائے متاثرہ خاتون کو کہا گیاکہ گھر سے کیوں نکلی ۔

انہوںنے کہاکہ سی سی پی او لاہور کو برطرف کیا جائے۔ سینیٹر آصف کرمانی نے کہا کہ عمر شیخ کی صورت میں پنجاب میں نوری نتھ بیٹھا ہوا ہے، سی سی پی او کی معافی نہیں استعفیٰ چاہئے۔

پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی اور شیری رحمان نے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی کی سزا دینے کی مخالفت کی۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ سرعام پھانسی دینا زیادتی کے واقعات روکنے کا حل نہیں۔ سرعام پھانسی سے معاشرے میں ظلم کو مزید فروغ ملے گا۔انہوں نے بھی سی سی پی لاہور کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔شیری رحمن نے کہاکہ سرعام پھانسیوں سے کبھی جرائم میں کمی نہیں ہوئی،جب ہم کہتے ہیں کہ سر عام پھانسی کیوں دی جائے تو کہا جاتا ہے کہ یورپی یونین کے کہنے پر سرعام پھانسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
ایم کیوایم کے بیرسٹر سیف نے کہا کہ زینب کیس کی طرح سانحہ موٹروے پر بھی سیاست کی گئی ہی کیا پولیس اور عدالتی نظام میں خرابیاں ڈھائی سال میں پیدا ہوئیں سانحہ ماڈل ٹائون میں کیا ہوا ان پولیس افسران کا کیا احتساب ہوا اگر سی سی پی او کو لٹکانے سے مسائل حل ہوتے ہیں تو کلمہ چوک پر لٹکا دیں،سانحہ موٹروے پر بحث میں دیگر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بھی حصہ لیا اور زیادتی میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ 122 گھنٹے گزر گئے موٹروے واقعہ کے مجرم ابھی تک آزاد ہیں ،وزیراعظم نے فرمایا تھا کہ ٹیپو سلطان بننا ہے،سی سی پی او نے دلیل دی ہے کہ خاتون رات کو کیوں نکلی۔ انہوںنے کہاکہ کراچی کی ننھی مروہ کی دودن بعد لاش ملی،ننھے فرشتے آئے روز درندگی کا شکار ہو رہے ہیں،یہ کیسا نظام ہے کہ دو بوتل شراب کے کیس کے فیصلے میں 9 سال لگ جائیں۔ انہوںنے کہاکہ جنگل کا معاشرہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،عدل و انصاف کے بغیر ہم ترقی نہیں کر سکتے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
تبصرے
Loading...